شیخ رشید کی زمانہ طالب علمی میں خودکشی کی کوشش

لاہور : وفاقی وزیر ریلوے اور سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد نے اپنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک ‘ میں اپنی 50 سالہ سیاست سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔وزیر ریلوے کی 352 صفحات پر مشتمل کتاب میں 12 ابواب شامل ہیں۔شیخ رشید لکھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کوئی فیصلہ کر لیں پھر وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹتے۔

2014 میں پاکستان تحریک انصاف کے دئیے گئے دھرنے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دھرنے میں عمران خان نے چینفی سفیر کو پیغام پہنچایا کہ چینی صدر پاکستان آئیں تو وہ راستہ کلئیر کر دیں گے۔سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ وردی کے بغیر صدر بننا چاہتے تھے۔چوہدری برادران بینظیر بھٹو کو قومی مفاہمتی آرڈیننس دینے کے حق میں نہیں تھے۔

پرویز مشرف انہیں این آر او نہ دینے تو آج یہ حال نہ ہوتا۔انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان این پی ٹی پر دستخط کر لیتا تو امریکا ایٹمی تنصیبات گھیرے میں لے سکتا تھا۔شیخ رشید نے مزید لکھا کہ پرویز مشرف اور ڈاکٹر عبد القدیر کی ملاقات میں معاملات خوش اسلوبی سے طے پائے گئے تھے۔شیخ رشید نے مزید لکھا ہے کہ میں نے آٹھویں جماعت کی عمر میں خودکشی کی ناکام کوشش کی۔

مری کی سیر سے تاخیر سے گھر پہنچا، پٹائی ہوئی تو خودکشی کا ارادہ کیا۔خودکشی کے لیے زہر نہ ملا تو بستر کی چادر پھندا بنا کر پنکھے سے لٹک گیا۔شور مچانے پر بھائی نے کمرے کا دروازہ توڑ کر مجھے خودکشی سے بچایا۔شیخ رشید نے مزید کہا کہ طاہر القادری اور عمران خان کے درمیان لندن میں معاملات طے پائے تھے۔آزادی مارچ پر گجرانوالہ میں حملہ ہوا تو عمران خان نے کنٹینر سے چوہدری نثار علی خان کو فون کیا،عمران خان اپنی تحریک طاہر القادری سے الگ اور منفرد رکھنا چاہپتے تھے۔