نئی دہلی فسادات، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی پولیس کو ذمہ دار قرار دے دیا

نئی دہلی : دہلی فسادات پرایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارتی پولیس کے کردار پر سوالات اٹھا دیے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پولیس نے فسادات کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں اور مشتعل ہندو گروہوں کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان ہوا جوکہ ان فسادات کا نشانہ تھے، پولیس نے فسادات کے دوران انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نفرت انگیز تقاریر کرنے والے ہندو رہنمائوں کے خلاف پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اس رپورٹ کی روشنی میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ میں کے نتیجے میں ہونے والے فسادات میں 53افراد جان سے گئے تھے جبکہ 5سو سے زائد زخمی بھی ہوئے تھے، جہاں ہندو انتہاپسند تنظیموں کے کارکنوں نے اس دوران مسلمانوں کے قتل عام کے علاوہ ان کے گھروں، دکانوں اور دیگر املاک کو نذر آتش کر دیا تھا۔

مساجد کی بھی بڑے پیمانے پر بے حرمتی کی گئی تھی۔۔یاد رہے کہ قبل ازیں امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز‘‘ نے بھی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ مسلم کش فسادات سے متعلق اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ فسادات کے دوران پولیس نے بھی دانستہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ شواہد اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ مسلمانوں اور ان کے گھروں کو نشانہ بنانے میں نئی دہلی پولیس نے بھی کردار ادا کیااور متحرک طریقے سے ہندو ہجوم کی مدد کی،

دلی پولیس کی کئی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں اسے مسلمانوں پر حملہ کرتے ہوئے دیکھاگیا، نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت نے پولیس کو سیاست زدہ کر دیا ہے، بھارت کی پولیس انتہائی نوآبادیاتی ذہن اور ذات پات والی ہے، پولیس کا رویہ کمزور کی طرف ہمیشہ زیادہ تشدد اور غصے پر مبنی ہوتا ہے۔