ارطغرل کے خلاف فتویٰ آگیا، حرام قرار دے دیا گیا

کراچی : جامعہ دارالعلوم کراچی نے ترکی کے مشہور ڈرامہ ”ارطغرل غازی“ سمیت دیگر ڈراموں کو مسلمانوں کے لیے نامناسب قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کر دیاہے جس میں کہا گیاہے کہ اس طرح کی فلمیں بنانا، دیکھنا اور دکھانا گناہ ہے اور مسلمانوں کو ان سے مکمل پرہیز کرنا لازم ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈرامہ ارطغرل غازی اس وقت پاکستان میں انتہائی مقبول ہے اور نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد ڈرامے کو دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت عثمانیہ کے قیام کی جدوجہد پر بنایا گیاہے ۔جس میں غازی عثمان کے والد ارطغرل کی جدوجہد کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

جامعہ دارالعلوم کراچی نے اپنے فتوے میں اسلامی ڈراموں سمیت دیگر ڈراموں کو اسلام کے خلاف سازش کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔فتوے کے مطابق ”اسلام اور اسلامی شخصیات کو یا ان کے کارناموں کو ڈراموں یا ویڈیو فلموں کے ذریعہ پیش کرنا خود ان ہستیوں کی شان مجروح کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ڈراموں میں غلط بیانی اور غلط انتساب تقریباً لازمی ہے، لہٰذا اس کو اسلامک ڈرامہ کہنا یا اس طرح ڈراموں کی شکل میں بلند پایہ شخصیات کا کردار پیش کرکے اسے اسلام کی خدمت سمجھنا درست نہیں“۔

فتوے میں کہا گیا کہ ”ڈراموں میں اپنی طرف سے حلیہ، لباس اور گفتگو کو منسوب کیا جاتا ہے جو در حقیقت اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلام کےخلاف سازش کا ایک حصہ ہے، لہٰذا اس طرح کی فلمیں بنانا، دیکھنا اور دکھانا گناہ ہے اور مسلمانوں کو ان سے مکمل پرہیز کرنا لازم ہے“۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان ڈرامہ ارطغرل سے متعلق کہہ چکے ہیں کہ ایسے ڈرامے اسلام کے مختلف پہلو دیکھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔