ماہا علی کے قریبی دوست کے بیان سے کیس کا رخ بدل گیا

کراچی : شہر قائد میں ایک ہفتہ قبل مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی لڑکی ماہا علی کے کیس سے متعلق مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ماہا علی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ فیشن بلاگر اور ماڈل بھی تھیں،انکی اچانک موت کی خبر سے سب کو ہی دھچکا پہنچا تھا۔ماہا علی کے ساتھ کام کرنے والے ایک کولیگ کا کہنا ہے کہ وہ انہیں دو سال سے جانتے ہیں اور ایک ساتھ اسپتال میں کام کرتے تھے۔

ماہا زندگی سے بھرپور خاتون تھیں وہ کبھی غمزدہ نہیں ہوتی تھیں۔ماہا کو اگرچہ گھریلو پریشانیاں تھیں پر اس نے کبھی انہیں ذہن پر سوار کر کے ذکر نہیں کیا۔وہ خوش رہنے والی لڑکی تھی۔ہر کسی سے ہنس کر باتیں کیا کرتی تھی۔ماہا کی باتوں سے ہرگز یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس قدر ذہنی تناؤ کا شکار ہوتی کہ اپنی جان لے لے۔

ماہا علی نے ایک ہفتہ قبل بتایا تھا کہ میں نے پستول لی ہے،اور کہا کہ اسپتال جانے میں سیکورٹی ایشوز کی وجہ سے اسلحہ رکھنا ضروری ہے۔

چونکہ ماہا کا تعلق امیر گھرانے سے تھا اور وہ بڑی مہنگی گاڑی میں اسپتال آتی تھی اس لیے پستول کی بات پر کسی نے تعجب نہیں کیا۔جب کہ پولیس کے مطابق متوفیہ کے موبائل فون کے کال ڈیٹا ریکارڈ سے سراغ ملا ہے کہ اسے آخری مسلسل تین کالز ایک ہی موبائل فون نمبر سے کی گئی تھیں۔پولیس کے مطابق مذکورہ شخص کا سراغ لگا لیا گیا ہے جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

پولیس کے تفتیشی افسران کے مطابق متوفیہ ماہا کی لاش کے قریب سے ملنے والا پستول ڈیفنس ہی کے رہائشی ایک شخص سعد ناصر کا لائسنس یافتہ ہے۔یہ پستول متوفیہ ڈاکٹر ماہا علی شاہ کے پاس کیسے آیا اس کا سراغ لگانے کے لیے پستول کے مالک کی تلاش ہے جس کے گھر پر چھاپہ مارا گیا مگر اسے حراست میں نہیں لیا جا سکا۔ پولیس ذرائع کے مطابق متوفیہ ماہا علی شاہ کا موبائل فون بھی تاحال نہیں مل سکا۔