اسرائیل میں انسانیت سوز واقعہ، 16 لڑکی کے ساتھ 30 افراد کی اجتماعی زیادتی

اسرائیل : اسرائیل میں درندگی کی انتہا ہو گئی جہاں 30 افراد نے 16 سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ انسانیت سوز واقعہ اسرائیلی بندرگاہ ایلات کے ایک رہائشی ہوٹل میں پیش آیا،لڑکی دوستوں کے ساتھ گھومنے کے لیے ایلات گئی تھی جب وہ ہوٹل کے واش روم میں گئی تو ملزمان اسے ہوٹل کے کمرے میں لے گئے جہاں 30 افراد نے لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

16 سالہ لڑکی کی دوست بھی اس کے ہمراہ تھی جو اس کے لیے کچھ نہ کر پائی اور نتیجتاََ متاثرہ لڑکی کے ساتھ یہ دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کچھ ملزمان کمرے کے باہر کھڑے رہے جب کہ کچھ ملزمان نے اس واقعے کی ویڈیوز بھی بنائیں۔

پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن کی عمریں 20 سال بتائی گئی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی بھی جلد گرفتاری متوقع ہے۔

گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ لڑکی کے ساتھ 30 مردوں نے زیادتی کی ہے،ملزم نے دعویٰ کیا کہ یہ سب لڑکی کی مرضی سے ہوا ہے۔پولیس نے ملزم کے موبائل فون سے لڑکی کو بھیجنے والے پیغامات اور ویڈیوز بھی دیکھیں تاہم اس نے دعویٰ کیا کہ میرا موبائل فون کوئی اور استعمال کر رہا تھا۔ملک بھر میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے،اسرائیل کے وزیر خارجہ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس اس حوالے سے تفتیشش کر رہی ہے۔میں یہ فعل کرنے والوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ اخلاقیات سے کس قدر گرے ہوئے ہیں۔انہوں نے متاثرہ لڑکی کو انصاف دلانے کی بھی یقین دہانی کروائی۔اسرائیل کے وزیراعظم نتین یاہو اور دیگر رہنماؤں نے بھی واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے واقعےپر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرم صرف لڑکی کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے خلاف ہوا ہے۔نتین یاہو نے کہا کہ ہر حالت میں ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دیگر اسرائیلی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ واقعے کی مذمت کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں۔یہ واقعہ ہر طرح سے قابل مذمت ہے،