لاہور سے گرفتار دہشتگرد کے انکشافات

لاہور : لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب سے گرفتار کیے گئے دہشتگرد نے اہم انکشافات کیے ہیں۔دہشتگروں کا ہدف پولیس لائنز جب کہ خودکش بمبار پڑوسی ملک کا رہائشی تھا۔دہشتگرد نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ان کا ہدف پولیس لائنز تھا جس کے باہر انہوں دھماکہ کرنا تھا۔دھماکے کا حکم مکرم خان عرف خراسانی نامی دہشتگرد نے دیا تھا۔

گرفتار دہشتگرد لیاقت خان ریلوے اسٹیشن پر خودکش بمبار کا انتظار کر رہا تھا۔جس دوران سی ٹی ڈی کی ٹیم نے اسے گرفتار کر لیا۔حملے کا منصوبہ چند روز قبل بنایا گیا تھا،17 سالہ مبینہ خودکش کا تعلق پڑوسی ملک سے ہے۔ کائونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تحریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا تھا۔

ریلوے اسٹیشن کے قریب سے کالعدم تنظیم کے دہشتگردکو گرفتار کر کے خود کش جیکٹ ،ہینڈ گرینیڈ اور پستول برآمد کر لیا گیا ۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق خفیہ اطلاع پر ریلوے اسٹیشن کے قریب کامیاب کارروائی کرکے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان/حزب الاحرار کے دہشتگرد لیاقت خان کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے خود کش جیکٹ ، دو ہینڈ گرینیڈ ، پستول تیس بوراور چھ گولیاں برآمد کرلی گئیں ۔ گرفتاری کے بعد دہشتگرد کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی لاہور میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئیں۔

دہشت گرد کی گرفتاری کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت صوبہ بھر میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ۔ اہم داخلی اور کارجی راستوں پر ہر آنے اور جانے والی گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر اہم سرکاری ونجی عمارتوں کی سکیورٹی سخت کر کے پیٹرولنگ بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ اس سے قبل کراچی میں سی ٹی ڈی سول لائنز نے کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کالعدم تنظیم کا دہشتگرد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

سی ٹی دی حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشگرد حیدر زیدی سمیت متعدد افراد کے قتل میں ملوث ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 2004 میں ملزم نے مفتی نظام الدین شام زئی اور مفتی جمیل کو قتل کیا، ملزم نے 1993 اور 1995 میں مسجد پر دستی بم حملہ کیا اور لیاری میں جلوس پر بھی حملہ کیا۔