وفاقی حکومت کا مونال ریسٹورنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں مارگلہ کے جنگلات میں موجود مونال ریسٹورنٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اردو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر زرتاج گل کا کہنا ہے کہ یہ اہم ترین فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ قانون کے تحت نیشنل پارک میں کسی قسم کی تعمیر یا کاروباری سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔

زرتاج گل سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت مونال ریسٹورانٹ کو ختم کر دے گی جو کہ مارگلہ نیشنل پارک میں واقع ہے ؟تو ان کا کہنا تھا کہ مونال سمیت جہاں پر بھی نیشنل پارک میں جو بھی غیر قانونی تعمیر ہوئی ہے وہ سب کی سب ختم کر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کا بڑا سخت فیصلہ ہے اور جہاں پر بھی نیشنل پارک آئے گا وہاں کوئی تعمیر نہیں ہو سکتی۔

زرتاج گل نے مزید بتایا کہ جنگلات کے فروغ کے لیے 10 ارب درختوں کے پروگرام کے علاوہ ہمارا فوکس ہے کہ ملک کے 15 نیشنل پارک کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جائے۔یہ وزیراعظم کا بہت بڑا اقدام ہیں۔پہلے نیشنل پارک صرف نام کے ہوتے تھے جہاں لکڑی بھی کٹتی تھی اور تعمیرات بھی ہوتی تھیں۔نیشنل پارک کو اب ہم باقاعدہ شکل دے رہے ہیں۔یہ نہیں ہو سکتا ہےکہ آپ صرف نام بنا دیں کہ نیشنل پارک ہے اور وہاں پر غیر قانونی کام ہوتا رہا ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔

یہ کام پچھلی حکومتوں نے کیے ہیں۔لوکل گورنمنٹ ،سی ڈی اے اور کنٹرکشن مافیا بھی ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔بڑی بڑی بلڈنگز بن گئیں،پہاڑوں کو کاٹ دیا گیا اور جو ریسٹورنٹس بن گئے وہ خود کروڑوں میں پیسے کما رہے ہیں۔انگریزوں کا بنایا ہوا بہت اچھا قانون ہے کہ اگر کوئی محفوظ ایریا ہے یا جنگل کا علاقہ ہے تو وہاں پر باقی سارے قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔اسلام آباد میں دیکھیں تو نیشنل پارکس کے اندر ریسٹورنٹس بنے ہوئے ہیں۔یہ کیسے بن گئے؟ ہمارے دور میں تو نہیں بنے۔ہمیں جب کلر کہار کے اوپر کچھ نظر آیا تو فوری ایکشن لیا۔