ترک صدر طیب اردگان کے مقابلے میں سابق صدر عبداللہ کو لانے کی افواہیں

استنبول : ترک صدر طیب اردگان کے مقابلے میں سابق صدر عبداللہ کو لانے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔اس حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں صدر طیب اردگان کے مقابلے میں اپوزیشن سابق صدر عبداللہ گل کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد کرنے پر غور کر رہی ہے۔طیب اردگان اور عبداللہ گل نے مل کر 2001ء میں موجودہ حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حکومت میں عبداللہ گل نے 2007ء سے 2014 تک صدر اور اس وقت طیب اردگان بطور ترک وزیراعظم ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔سابق صدر عبداللہ گل کی جانب سے کچھ عرصہ سے طیب اردگان پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے تھے۔ترک اپوزیشن جماعت کے رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت سابق صدر عبداللہ گل کی نامزدگی سے بہت خوفزدہ ہے۔

عبد اللہ گل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ حال ہی میں سابق معاشی ٹائیکون علی بابا کان کی جانب سے بنائی گئی ڈیمو کریسی اینڈ پراگریس پارٹی کے پیچھے ہیں۔

عبداللہ گل پر ملک کے سیکولر حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ وہ طاقت کے ایک فرد کے پاس ارتکاز کے لیے جاری اقدامات کے وقت خاموش رہے۔اس کے لیے کسی قسم کا موثر ضابطہ کار تشکیل نہ دیا گیا۔عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر نے تاحال آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم بہت سے افراد سمجھتے ہیں کہ ترکی کو ایک اچھے مقابلہ کرنے والے کی ضرورت ہے۔

اسی حوالے سے تجزیہ کار کیرول واسلیسکی کا کہنا ہے کہ عبداللہ گل کو اردگان کے مقابلے لانا کئی وجوہات کی بنا پر کوئی اچھا آئیڈیا نہیں ہے۔اگر اردگان کے مقابلے میں کوئی بندہ لانا ہے تو اپوزیشن مئیر منصور یاواس اور استنبول کے اپوزیشن مئیر اکرم امامو غلو زیادہ بہتر ہیں کیونکہ عبداللہ گل کے بارے میں یہ رائے کہ وہ اردگان کے اقدمات پر ان کے خلاف کھڑے ہونے میں ناکام رہے۔