14 اگست پر باجے کے شور سے بچہ جاں بحق ہو گیا

کراچی : 14 اگست پر باجے کے شور سے بچہ جاں بحق ہو گیا۔تفصیلات کے مطابقکراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھر کے اندر چار سالہ بچہ پراسرارطورپرجاں بحق ہوگیا۔بچے کے والد کا کہنا ہے کہ گھر میں اس کے بڑے بھائی کے بچے جشن آزادی کے حوالے سے لائے گئے باجے بجا رہے تھے جس کے باعث اس کا بیٹا عبدالہادی چیخیں مار کر اٹھا اور اچانک ہی دم توڑ گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ میرا اپنے بھائیوں سے جائیداد کا تنازع بھی چل رہا ہے۔جمعے کی دوپہر لیاقت آباد کے علاقے سی ون ایریا میں مکان کے اندر سے چار سالہ عبد الہادی ولد جاوید کی لاش ملی،جسے فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔بچے کی گردن پر کچھ پرانے نشانات تھے جس کے باعث ابتدائی طور پر محسوس ہوا کہ بچے کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تاہم اس بات کی پولیس اور بچے کے والد نے تردید کی۔

بچے کے والد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کو الرجی ہے اور گزشتہ ایک سال سے زیر علاج ہے۔طبیعت میں خرابی کے باعث کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی اور گزشتہ دو روز سے جاگ رہا تھا۔جمعہ کی صبح وہ سویا لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کے بڑے بھائی کے بچوں نے جشن آزادی کے حوالے سے لائے گئے باجے بجانا زور زور سے شروع کر دیے۔اسی طرح میرا بیٹا اٹھ گیا اور چیخیں مارنے لگا۔

میں نے اور اس کی والدہ نے سنبھالنے کی کوشش کی لیکن اس دوران وہ ہمارے ہاتھوں میں ہی دم توڑ گیا۔بچے کو فوری طور پر ہسپتال لے کر گیا جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد موت کی تصدیق کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی ہلاکت کا قتل نہیں ہے بچے کی موت طبعی طور پر واقع ہوئی ہے۔بچے کا کافی عرصے سے علاج بھی چل رہا تھا جس کی میڈیکل رپورٹس پولیس نے دیکھی ہیں تاہم اگر بچے کے والد نے کسی کے خلاف کوئی درخواست نہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی