بجلی بحران کے خاتمے کا کریڈٹ نوازشریف دور کو جاتا ہے، عبدالرزاق داؤد

لاہور : مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ بجلی بحران کے خاتمے کا کریڈٹ نوازشریف دور کو جاتا ہے، نوازشریف کے دور میں بجلی گھر لگانے سے لوڈشیڈنگ ختم ہوئی، سی پیک کے تحت سابقہ دور حکومت میں پاور پلانٹس لگائے گئے، اب سی پیک کا فوکس صنعتی زراعی شعبے ہیں۔

انہوں نے میڈیا سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی بحران کے خاتمے کا کریڈٹ نوازشریف دور حکومت کو جاتا ہے ،نوازشریف کے دور میں بجلی گھر لگانے سے لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔

سی پیک کے تحت سابقہ دور حکومت میں پاور پلانٹ لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبے نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، سی پیک پراجیکٹ کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ سی پیک کا فوکس اب صنعت اور زراعت کے شعبوں پر ہے۔

حکومت نے ایران کے ساتھ بارڈر مارکیٹس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح افغانستان کے ساتھ پہلے جو باڑہ مارکیٹ تھیں، وہاں پر مارکیٹس بنانے کا عمل جاری ہے۔

اس سے اسمگلنگ ختم ہوگی اورسرحد پر رہنے والے لوگوں کیلئے مئوثر تجارتی سرگرمیاں میسر آئیں گی۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ایران کے ساتھ عالمی پابندیاں تجارتی تعلقات کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے میں کوئی پیشرفت نہیں ہورہی، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینلز کا نہ ہونا تجارتی معاہدے میں رکاوٹ ہیں۔

دوسری جانب سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سی پیک میں قومی منصوبے سے شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ انسانی و سماجی ترقی ہماری ترجیح ہے۔ 60 فیصد نوجوان آبادی ملکی ترقی کا پیش خیمہ ہے۔ نوجوان قیادت کو اختیارات سونپ کر ترقی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو 3 مہینے کی مخصوص انٹرن شپ کی پیشکش کررہے ہیں۔ سی پیک میں انٹرن شپ پروگرام کے آغاز پر خوشی ہے۔