مسجد وزیر خان میں فوٹو شوٹ کے علاوہ غیر اخلاقی حرکات ہونے کا انکشاف

لاہور : مسجد وزیر خان ان دنوں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے،جس کی وجہ حال ہی میں مسجد وزیر خان کے اندر ہونے والا ایک شوٹ ہے۔یہ شوٹ گلوکار بلال سعید کے ایک گانے کے لیے ریکارڈ کیا گیا جس میں اداکارہ صبا قمر بھی موجود ہیں۔مسجد کے اندر اداکارہ کے رقص کرنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو اہل علاقہ سمیت سوشل میڈیا پر بھی صارفین میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

لیکن کیا مسجد وزیر خان میں پہلی بار کوئی فوٹوشوٹ ہوا ہے؟ اس سے پہلے مسجد وزیر خان میں ہونے والے فوٹو شوٹ پر کوئی آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ اسی حوالے سے جب اردو پوائنٹ نے کھوج لگانے کی کوشش کی تو کئی اہم انکشافات سامنے آئے۔اردو پوائنٹ کے پروگرام میں اینکر فرخ شہباز وڑائچ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مسجد وزیر خان کے قریب رہنے والے رہائشی علی نے بتایا کہ مسجد اللہ تعالی کا مقدس شہر ہے لیکن یہاں کی انتظامیہ نے مسجد وزیر خان کو ایک دکان بنا لیا ہے۔

ضرور پڑھیں   پنجاب میں خاتون خودکش بمبار کے داخلے کی اطلاع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ

یہاں پر مینار پر جانے کے الگ ریٹ ہیں جبکہ فوٹو شوٹ کے لئے الگ الگ ریٹ مقرر کیے گئے ہیں۔گزشتہ دنوں ؤ ہونے والے واقعے کو میں نے فیس بک پر شیئر کیا کیونکہ اب کی بار بے شرمی کی تمام حدیں پار ہو گئی تھیں۔اس بار مسجد کے اندر میک اپ آرٹسٹ بھی داخل ہوئے اور یہاں پر رقص بھی کیا گیا۔بلال سعید نے جھوٹ بولا کہ ہم نے کوئی رقص نہیں کیا جبکہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ مسجد کی پہلی صف میں کھڑے ہو کر رقص کیاگیا اور جہاں امام مسجد بیٹھتے ہیں وہاں دیگر لوگ بیٹھے تھے۔

ضرور پڑھیں   لاہور،ڈاکوؤں کی واردات کے دوران 19 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی

اہل علاقہ کی جانب سے مسجد کے باہر ایک بینر بھی آویزاں کیا گیا ہے کہ خواتین مسجد میں داخل ہوتے وقت سر ڈھانپیں۔لیکن دکانداری چمکانے کے شوقین افراد نے وہ بینر بھی ہٹا دیا۔ہمارا مطالبہ انتظامیہ کو معطل کرنے کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آئندہ مسجد وزیرخان میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔علی نامی شہری نے انکشاف کیا کہ کئی بار مسجد کے اندر سے شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئیں۔کئی مرتبہ یہاں پر لوگوں نے لڑکے اور لڑکیوں کو غیر مہذب حرکات کرتے دیکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ مذہب کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے یہاں وضوکے لیے پانی بھی نہیں ملتا۔مزید کیا کہا ویڈیو میں ملاحظہ کریں: