آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 16 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے

لاہور : چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 16 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے، سعودی عرب پاکستان سے شدید ناراض ہے، اس صورتحال میں آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب مالی اعانت، کشمیر ایشو اور سفارتی تناؤ میں کمی کیلئے بڑا اہم ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو سینیئر فوجی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ ریاض پاکستان کی تنقید پر سخت ناراض ہے کہ سعودی عرب کشمیر کے علاقائی تنازع پر کچھ نہیں کر رہا۔

اس صورتحال میں جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔ دورے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے رائٹرز کو بتایا کہ ہاں ہم سعودی عرب کا سفر کر رہے ہیں۔ یہ دورہ پہلے سے طے شدہ اور بنیادی طور پر فوجی امور پر مبنی تھا۔

مزید برآں سینئر تجزیہ کار صابر شاکر نے بھی اپنے تبصرے میں کہا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان معاملات بگڑے ہیں، اس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی سفیر نواف المالکی کی ملاقات ہوئی، کچھ ملاقاتیں سعودی ایمبیسی میں بھی چل رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان میں ایک بات کی تھی، کہ پاکستانی شہری سعودی عرب میں کام کرتے ہیں، ان کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں اور سہولتیں دی جائیں، پاکستانیوں کا بھی ایسے خیال رکھا جائے جیسے دوسرے ممالک کے شہریوں کا رکھا جاتا ہے۔

اسی طرح پاکستانی قیدیوں کو وہاں سے رہا کر کے پاکستان بھیج دیا جائے۔ اس موقع پر محمد بن سلمان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر ہوں گے۔صابر شاکر نے کہا کہ سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ کے لیے ہیں۔پاکستان نے سعودی عرب کو دشمن تو دور کی بات ،کبھی منفی لسٹ میں بھی نہیں رکھا۔سعودی عرب اور یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کو تسلی رکھنی چاہیے کہ وزیراعظم اور جنرل باجوہ آواز اٹھاتے رہیں گے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات اصولی ہیں، پاکستان کو کچھ دکھ پہنچا ہے۔ سعودی عرب کو یقین نہیں تھا کہ وزیرخارجہ اس طرح کھل کر معاملات کو پبلک کردیں گے، پاکستا ن نے بھی مجبوری میں یہ بات کی،اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی بتا دیا، پاکستان اس پر قائم ہے۔ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ اوآئی سی کے متوازی کوئی فورم نہ بنایا جائے۔

پاکستان کا مئوقف ہے کہ اگر اوآئی سی کے ہوتے عرب لیگ بن سکتی ہے، اقوام متحدہ کے نیچے گلف کونسل بن سکتی ہے، تو پھر پاکستان یا دوسرے اسلامی ممالک کو کیوں حق نہیں کہ وہ بھی کوئی گروپ بنائے؟وزیرخارجہ نے جب بیان دیا تو ریاض میں سعودی ایمبیسی نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی گفتگو کا ترجمہ کروایا گیا، پھر رابطے کیے گئے کہ اس گفتگو کا مقصد کیا ہے؟ اس حوالے سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔سعودی عرب کا ایک اہم ترین دورہ ہونا ہے، یہ اعلیٰ سطح کا دورہ ہے، یہ دورہ اسی صورت ہوگا جب دونوں ممالک کے درمیان معاملات ٹھنڈے ہوجائیں گے۔