وزیراعظم عمران خان کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری

لاہور: لاہور کی مقامی عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور دیگر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے.

صوبائی دارالحکومت کی سیشن عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج اعجاز گوندل نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی دائر درخواست پر سماعت کی واضح رہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کی یہ درخواست فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ نے دائر کی اور اس میں مریم نواز کی نیب میں پیشی پر حملہ کرنے کے الزام میں وزیراعظم عمران خان، مشیر داخلہ شہزاد اکبر سمیت دیگر کے خلاف مقدمے کے اندراج کی استدعا کی گئی.

درخواست میں سی سی پی او لاہور اور ایس ایچ او چونگ کو فریق بنایا گیا ہے، ساتھ ہی یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ مریم نواز کی نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر سرکاری مشینری نے طاقت کا بےدریغ استعمال کیا مذکورہ درخواست کے مطابق عمران خان، شہزاد اکبر اور ڈی جی نیب لاہور کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی مگر مقدمہ درج نہیں کیا گیا.

ضرور پڑھیں   بھارتی طیاروں کی دراندازی کی کوشش، جوابی کارروائی میں بھاگ نکلے

درخواست کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ مریم نواز کی پیشی کے دوران امن و عامہ کو قابو میں رکھنا حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن حکومت اور نیب نے نہتے اور پرامن کارکنان پر حملہ کیا اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ مریم نواز کی پیشی کے دوران حملہ کرنے والوں اور اس کے احکامات جاری کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے بعد ازاں عدالت نے مذکورہ درخواست پر پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18 اگست تک جواب طلب کرلیا.

ضرور پڑھیں   کرتارپور راہداری منصوبے کا افتتاح ،منموہن سنگھ نے پاکستان کی دعوت ٹھکرا دی

واضح رہے کہ 6 اگست کو نیب نے مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو 200 کنال اراضی غیرقانونی طور پر اپنے نام کرانے کے الزام میں طلب کرتے ہوئے انہیں 11 اگست کو پیش ہونے کی ہدایت کی تھی. 11 اگست کو وہ نیب دفتر میں پیشی کے لیے لیگی کارکنان کے ہمراہ پہنچی تو نیب دفتر کے اطراف پولیس نے رکاوٹیں لگا کر سڑکیں بند رکھی تھی جس پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان مشتعل ہوگئے تھے اور پھر کارکنان اور پولیس دونوں کی جانب سے پتھراﺅ کیا گیا.

پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے صورتحال سخت کشیدہ ہوگئی تھی جس کے باعث نیب نے ان کی پیشی منسوخ کردی تھی، مزید یہ کہ پولیس نے مسلم لیگ (ن) کے درجنوں کارکنان کو گرفتار کرلیا‘بعدازاں ایک باضابطہ اعلامیے میں نیب نے بتایا مسلم لیگ (ن) کے راہنماﺅں اور کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم مریم نواز نے اس تمام صورتحال پر کہا تھا کہ انہیں نقصان پہنچانے کے لیے نیب میں بلایا گیا تھا.