مریم نواز کی گاڑی پرلیزرگن سے فائر ہوا ہے، رانا ثناء اللہ

لاہور : مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کی گاڑی پرلیزرگن سے فائرہوا ہے، لیزرگن سے فائر مریم نواز کے اوپر براہ راست قاتلانہ حملہ تھا،حکومت کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیے،کیا بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ پتھر لگنے سے بھی ٹوٹ جاتا ہے؟

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا درپردہ منصوبہ مریم نواز کی گاڑی پر حملہ کرنا تھا، اسی لیے ان کو نیب آفس بلایا گیا، مجھے بتائیں کہ کیا بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ پتھر لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے؟ بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ اتنا خستہ ہوتا ہے؟ اگر اتنی مہنگی گاڑی کا شیشہ پتھر لگنے سے ٹوٹ جائے تو پھر لوگوں کو جنہوں نے بلٹ پروف گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں، ان کو سوچنا چاہیے۔

ضرور پڑھیں   مساجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کیخلاف درخواست مسترد

انہوں نے کہا کہ میری رائے کے مطابق مریم نواز کی گاڑی کو پتھر نہیں لگا بلکہ اطراف کی عمارتوں سے لیزرگن فائر ہوا ہے، جوکہ مریم نواز کے اوپر براہ راست قاتلانہ حملہ تھا۔

دریں اثناں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ جب میری گاڑی نیب کے قریب پہنچی تو مجھے پتا نہیں تھا کہ وہاں عوام کا ایک سمندر ہے، لیکن وہاں اچانک آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوگئی۔

وہاں میری گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔ بلٹ پروف گاڑی تھی، اس کے باوجود اس کی ونڈ اسکرین ٹوٹ گئی ہے۔ وہاں پر کارکن پھر میری گاڑی کے آکر کھڑے ہوگئے۔ میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نیب کا نوٹس پرسوں موصول ہوا۔ میڈیا کو رنگ دیا گیا کہ شاید میں نے کسی زمین پر قبضہ کیا ہے ، انہوں نے نیب کا کال آف نوٹس دکھایا اور کہا کہ اس نوٹس میں مجھ پر ایک الزام بھی نہیں لگایا گیا۔

ضرور پڑھیں   کنگ آف کامیڈی امان اللہ خان خالق حقیقی سے جا ملے

میں کہنے میں حق بجانب ہوں کہ مجھے بلانے کے پیچھے مجھے نقصان پہنچانا مقصود تھا۔ پرویز رشید نے کہا کہ شکر کرو، گاڑی بلٹ پروف تھی، اگر دوسری گاڑی ہوتی تو پتھر میرے سر پر لگتے، اور پولیس کی یونیفارم میں جو لوگ تھے پتا نہیں وہ پولیس والے تھے یا نہیں۔میں نے اسی وقت ویڈیوز بنائیں اور ٹویٹ کردیے، اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو پتھر میرے سر میں لگتے اور میری ہیڈ انجری ہوسکتی تھی۔