ایف آئی اے نے بلی سے زیادتی کی خبر مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی قرار دے دی

لاہور : ایف آئی اے نے بلی سے زیادتی کی خبر مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی قرار دے دی۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل خبر سامنے آئی تھی کہ لاہور میں نوجوان نے دوستوں کے ساتھ مل کر بلی کے بچے کو مبینہ طور پر ریپ کر کے مار ڈالا ہے۔ معاملہ جانوروں کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی عائشہ چندریگر فاونڈیشن کی جانب سے اٹھایا گیا تھا، معاملے کی تحقیقات اور ذمے داران کیخلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

ادارے کی سربراہ عائشہ چندریگر کا دعویٰ تھا کہ ایک لڑکی کی جانب سے انہیں فراہم کردہ معلومات کے مطابق لاہور میں ایک خاندان نے بلی کا بچہ خریدا، جسے بعد ازاں اس خاندان کے 15 سالہ نوجوان نے دوستوں کیساتھ ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔ ریپ کا نشانہ بننے کے باعث بلی کا بچہ موت کے منہ میں چلا گیا۔

جس لڑکی نے اس واقعے کی شکایت کی، اس کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ڈاکٹر نے بھی تصدیق کی کہ بلی کے بچے کو ریپ کا نشانہ بنایا گی۔

اس خبرکو سوشل میڈیا پر خود اچھالا گیا لیکن اب ایف آئی آئی نے اس خبر کو بلکل جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا ہے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم نے تصدیق کی ہے کہ بلی کے بچے کے عصمت دری کی کہانی جعلی تھی۔ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خبر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ نہ صرف معاشرے میں بدامنی کا سبب ہیں بلکہ ملک کی دنیا میں بدنامی کا باعث ہیں۔

میری عوام سے اپیل ہے کہ سوشل میڈیا پرایسی خبریں بلا تصدیق شئیر نہ کریں اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔
قبل ازیں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے نمائندے عمر کا کہنا تھا کہ اگر کسی انسان کے ساتھ بھی زیادتی کی جائے، تو بھی اس طرح کے ثبوت سامنے نہیں آتے، بلی کا بچہ انفیکشن کا شکار ہوا تھا، زیادتی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔