دہشت گردوں کی جانب سے تخریبی کاروائیوں میں امونیم نائٹریٹ کے استعمال کا خدشہ

کراچی : دہشت گردوں کی جانب سے تخریبی کاروائیوں میں امونیم نائٹریٹ کا استعمال کے پیش نظر سندھ حکومت الرٹ ہوگئی ہے۔بندرگاہوں اور گوداموں میں امونیم نائٹریٹ کی موجودگی پر سکیورٹی انتظامات اور منتقلی پر نظر رکھنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔بیروت دھماکے کے بعد سندھ حکومت نے حساس اداروں کی مدد سے امونیم نائٹریٹ کی منتقلی اور ذخیرہ کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ امونیم نائٹریٹ کوفیوئل آئل کے ساتھ ملانے کی تکنیک کو بڑے پیمانے پر تعمیراتی صنعت میں استعمال کیا جارہا ہے۔

معتمد ترین ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے وفاقی حکومت کے توسط سے کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ پر نئے سیکیورٹی اقدامات کے لئے خط لکھ دیا ہے۔

سندھ حکومت کےذرائع کا کہنا ہےکہ امونیم نائٹریٹ بو کے بغیر قلمی صورت میں پایا جانے والا شفاف مادہ ہے جسے بطور کھاد استعمال کرنے کے لیے ملک بھر کی کھاد فیکٹریاں درآمد کرتی ہیں۔

حکومت سندھ نے امونیم نائٹریٹ کی صوبے میں موجودگی کا پتہ چلانے کے لیے کئی اداروں کو ٹاسک سونپ دیا ہے اور اس کی ملک میں درآمد کو پیشگی اجازت سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کراچی میں واقع صنعتی اداروں میں امونیم نائٹریٹ کی موجودگی کا پتہ چلانے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور حساس اداروں کو ٹاسک دیا گیا ہے۔حکومت نے امونیم نائٹریٹ کی درآمد اور ملک بھر کے صنعتی اداروں کو سپلائی کرنے تک کہ تمام معاملات کو ضابطے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وفاقی حکومت سے مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ کو بھی بیروت دھماکے جیسے خطرے کا سامنا ہے، ہوسکتا ہے یہ ابھی اندیشہ ہو،لیکن حکومت پاکستان کو اس کا فوری جائزہ لینا چاہیے، حکومت پاکستان کو اعلان کرنا چاہیے اگر ایسا ہوا تو اس کو جنگ سمجھا جائے گا۔