بیروت دھماکوں کی کارٹون سیریز ’سمپسنز‘ میں پیشگوئی

لاہور : بیروت بم دھماکوں کی کارٹون سیریز ’سمپسنز‘ میں پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا۔تفصیلات کے مطابق مستقبل کے حوالے سے پیش گوئیاں کرنے کے حوالے سے مشہور کارٹون سیریز سمپسنز میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی پیشگوئی کی گئی تھی۔اس حوالے سے ایک کلپ بھی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

کارٹون سیریز میں شامل مناظر بالکل بیروت بم دھماکوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔مذکورہ ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویسا ہی آگ کا شعلہ اوردھوئیں کا بگولہ اٹھاجیسا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت سے دھماکے کی منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا۔سمپسنز کے مختصر کلپ میں ایک مسلمان کردار کو بھی ظاہر کیا گیا جو دوسرے شخص کو کہتا ہے کہ میرے ساتھ آؤ اور وہ اس کے ساتھ چلا جاتا ہے۔

ضرور پڑھیں   دنیا کی پہلی اسلامی برانچ لیس بینکنگ سہولت متعار ف کرادی گئی

دونوں کردار کمرے میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں پر موجود ایم 320 لکھے سرخ رنگ کے تین گرنیڈ موجود ہیں۔جب ایک شخص گرنیڈ کو اٹھاتا ہے اور اسے جلاتا ہے تو ایک زور دار دھماکہ ہوتا ہے اور پورا شہر مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے بالکل اسی طرح بیروت میں دھماکا ہوا تھا۔سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے حیرانگی کا اظہار کیا گیا کہ کس طرح سمپسنز کے مصنف نے لگ بھگ تین دہائیاں قبل بیروت بم دھماکے جیسے واقعے کی پیش گوئی کی تھی۔

اس سے قبل اس سیریز سے متعلق دعویٰ بھی سامنے آ چکا ہے کہ اس نے کورونا وائرس کی حالیہ وبا سے متعلق بھی پیشگوئی کی تھی۔

۔واضح رہے کہ منگل کے روز ہونے والے دھماکے کے بعد 145 افراد کی ہلاکت اور 5000 سے زائد زخمی ہوئے جس کے بعد ان کے نقادوں نے ملک کے سیاسی نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ بیروت بندرگاہ پر ہونے والےدھماکے کی وجہ بننے والی امونیم نائٹریٹ ایک بحری جہاز سے 2014 میں ضبط کی گئی تھی اور اسے گودام میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں   والد سے ہسپتال میں ملاقات کے بعد مریم نواز کی طبیعت بھی اچانک خراب ہوگئی،

یہ امونیم نائٹریٹ ایک روسی تاجر کی تھی جس نے اسے سٹور کروانے کے بعد واپس نہیں آٹھایا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس خطرناک مواد کی پیکنگ خراب ہوتی گئی۔ اس حوالے سے بندرگاہ کے حکام نے عدالت کو گزشتہ 6سالوں میں بار بار آگاہ کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کا نوٹس نہیں لیا جس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑا ہے۔