دھماکے کے بعد 3 نوزائیدہ بچوں کو بچانے والی نرس ہیرو بن گئی

بیروت : دھماکے کے بعد 3 نوزائیدہ بچوں کو بچانے والی نرس ہیرو بن گئی۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز بیروت میں ہونے والے دھماکے نے کئی گھر تباہ کر دئیے ہیں۔۔اب تک 100 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔جبکہ زخمیوں کی تعداد چار ہزار سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ریڈ کراس نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں کئی گنا اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

لبنان کے وزیر صحت حماد حسن کا کہنا ہے کہ بیروت میں ایک بہت بڑا سانحہ رونما ہوا ہے۔ بیروت کے اسپتالوں میں دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے ہیں۔، اس وقت شہر کے تمام اسپتالوں زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔چونکہ دھماکوں کے بعد عام طور پر ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہر کوئی کو اپنی جان بچانے کی کوشش میں ہوتا ہے۔

ضرور پڑھیں   بیوی اور بیٹوں کے خرچ پر گذارہ : معروف بھارتی بزنس مین انیل امبانی کے کنگلے ہوگئے

لیکن کچھ ایسے فرض شناس لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر قسم کے حالات میں پہلے اپنا فرض پورا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایسی ایک مثال بیروت کے اسپتال میں کام کرنے والی نرس نے قائم کی جو دھماکوں کے فوری بعد بھاگی اور تین نوزائیدہ بچوں کو گود میں اٹھا لیا۔نرس کی بچوں کو گود میں تھامے ساتھ ساتھ کام کرنے کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ہم مقروض ہوتے ہیں۔

۔دوسری جانب روسی ٹی وی کی رپورٹ میں بیروت دھماکوں کو لبنان کی تاریخ کا سب سے خوفناک واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ بیروت کے مقامی میڈیا کی جانب سے بھی اس واقعے کو لبنان کی تاریخ کا خوفناک ترین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے لبنان کے سیکورٹی چیف نے بھی بیان جاری کیا ہے۔ جاری بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بیروت کی بندرگاہ پر واقع اسلحے کے گودام میں دھماکے ہوئے۔ گودام میں کئی سال سے اسلحہ پڑا ہوا تھا، جو منگل کے روز دھماکوں کی وجہ بنا۔