سی پیک منصوبے کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوئے، چینی حکام

اسلام آباد : سی پیک منصوبے کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق یہ بات سرکاری عہدیداران اور تھنک ٹینک کے نمائندوں نے سی پیک کے حوالے سے منعقدہ ایک ویبنار(آن لائن سیمنار) میں کہی ہے۔ اس آن لائن سیمینار میں دونوں ممالک کے حکام نے شرکت کی جس میں بات کرتے ہوئے چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے سربراہ زینگ باؤزوہنگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس بحران کے دوران نہ تو کسی پاکستانی ملازم کو نکالا گیا اور نہ ہی ان کی تنخواہوں میں کمی کی گئی، تمام منصوبے کورونا وائرس سے پاک ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں میں 60 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ملازمت دی جاچکی ہے اور 13 ہزار چینی ٹیکنیشنز، انجینئرز اور ماہرین بھی ان منصوبوں پر کام کررہے ہیں اور تمام افراد کورونا سے پاک ہو کر ایک محفوظ ماحول میں کام کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سی پیک منصوبے پرکام تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جس کے بعد اب ایران نے سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی حمایت کر دی ہے، گوادر بندرگاہ توڑنے کا منصوبہ فلاپ کرنے کے بعد ایران سی پیک کا بھی پارٹنر بن گیا ہے۔

ایران نے حیلے بہانوں پربھارت کو پراجیکٹ سے جدا کر کے اپنے طور پر ریل لائن کی تعمیر کا فیصلہ کیا، ایران اب چاہ بہار ریلوے لائن کو بھارت کے بغیر مکمل کرے گا، بھارت اور ایران کے درمیان یہ معاہدہ 4 سال پہلے طے پایا تھا اور منصوبے کے تحت افغان سرحد پر چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے لائن تعمیر ہونی تھی لیکن بھارت کی جانب سے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے اور فنڈز کی فراہمی میں مسلسل تاخیر ہوتی رہی تاہم ایران یہ پراجیکٹ مارچ 2022 تک خود مکمل کرے گا۔

اس اہم منصوبے سے بھارت کی علیحدگی کے بعد ایران نے پاک چین راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کا کہنا ہے کہ سی پیک اور بی آر ائی خطے کی تقدیر بدل دیں گے، یہ منصوبے علاقائی ترقی خصوصاً پاکستان، چین اور ایران کے لیے انتہائی فائدے مند ثابت ہوں گے۔انہوں نے سی پیک اور بی آر آئی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی حمایت کا غیر معمولی اقدام تہران حکومت کی خارجہ پالیسی میں تبدیل کا اہم اشارہ ہے۔