بلاول بھٹو نے چیئرمین نیب کے استعفی کا مطالبہ کردیا

لاہور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں قومی احتساب بیورو کے بارے میں جو کہا ہے اس کے بعد نیب کے رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور چیئرمین نیب اگر کوئی شرم اور حیا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں. لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم تو کہتے تھے کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لیے اور سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اب سپریم کورٹ بھی یہی بات کہہ رہی ہے، سپریم کورٹ کے حکم میں نیب، اسٹیبلشمنٹ اور کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں کا احتساب کیا گیا.

انہوں نے کہا کہ نیب کو بند کردیا جائے، اس غیر آئینی، غیر جمہوری ادارے کے دروازوں کو تالا لگادیا جائے‘بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کا حکم پڑھ کر سنانے کے بعد کہا کہ اس حکم کے بعد کیا یہ اس ادارے کی موجودگی آئینی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کا ہمیشہ سے موقف ہے کہ نیب آرڈیننس آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جسے سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے.

انہوں نے کہا کہ کیا ہمارا موقف آج درست ثابت نہیں ہوگیا، ہم اس معاملے کو یہاں نہیں چھوڑ سکتے، پارلیمان اور جمہوری جماعتوں کو اس پر فوری ایکشن لینا چاہیے‘انہوں نے کہا کہ جب ایسے شخص سے کام لیا جائے گا جو پوچھتا تھا کہ کورونا کیسے کاٹتا ہے تو یہی حال ہوگا. انہوں نے کہا کہ پنجاب کے پاس وسائل موجود تھے کہ وہ دوسروں صوبوں کے مقابلے وبا سے بہتر طور پر نمٹ سکتا تھا‘انہوں نے کہا کہ پنجاب کی ٹیم نالائق، نااہل ہے, انہوں نے کہا سندھ فرنٹ لائن ورکرز کو رسک الاو¿نس دے سکتا ہے تو باقی صوبے کیوں نہیں کرسکتے.

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر پاکستانی کی زندگی، صحت اور معاشی حالات کو خطرے میں ڈال دیا ہے‘بلاول بھٹو نے کہا کہ جو لوگ انہیں پاکستان کو صاف اور شفاف بنانے کے لیے لائے تھے تو کیا پاکستان صاف و شفاف ہوگیا‘چیئرمین پی پی پی نے کہا پنجاب میں بدعنوانی ہورہی ہے اور بی آرٹی، مالم جبہ میں ہونے والی کرپشن کا بھی جواب دینے کے لیے تیار نہیں.

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ پی ٹی آئی والے خود کہہ رہے ہیں پنجاب میں کرپشن ہورہی ہے، بتایاجائے پنجاب میں کرپشن کون کررہا ہے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کہا یہ پاکستان کی کرپٹ ترین حکومت ہے، کیا آج بھی کرپشن کی ذمہ داری ن لیگ اور پیپلزپارٹی ہے؟. بلاول نے کہا کہ نیب کو اپنے آپ کو واضح کرنا چاہیے،

حکومت کے میگا اسکیمز پر نیب ایکشن نہیں لے رہا پہلے صرف ہم کہتے تھے اب عدلیہ نے بھی کہہ دیا فیس نہیں کیس دیکھنے والا مذاق بند کریں نیب کو ختم کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا ہونا چاہیے بلاتفریق احتساب کیلئے سب کو مل کر قانون سازی کرنا ہوگی‘انہوں نے بتایا کہ عید اورشہبازشریف کی صحت یابی کے بعد اپوزیشن کی اے پی سی ہوگی نون لیگ سے اے پی سی پر تفصیلی بات ہوئی.