مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کا عید کے بعد آل پارٹیزکانفرنس بلانے پر اتفاق

لاہور : قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی نے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا ہے. مسلم لیگ نون کے تین رکنی اعلی سطحی وفد نے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے بلاول ہاﺅس لاہور میں ملاقات کی جس میں طے پایا کہ عید کے بعد قیادت کی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس کی جائے گی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا‘

بلاول ہاﺅس میں ملاقات کے بعد دونوں پارٹیوں کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں بتایا گیا دونوں جماعتوں نے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے.

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ 72 برس پاکستان اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسے کسی نئے فاشسٹ ایجنڈے کی تجربہ گاہ بنایا جاسکے بلکہ صرف 22 کروڑ عوام کی امنگوں کے مطابق کسی اور راستے پر چلنے کا متحمل نہیں. انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسے تجربات نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے، ملکی معیشت حکومت کی نااہلی، ناتجربہ کاری اور نالائقی سے تباہ ہوگئی ہے 21 ویں صدی میں کوئی ریاست اس تباہ حال معیشت کے ساتھ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتی.

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر معیار زندگی دینا تو دور کی بات روز بروز عوام کا معیار زندگی انحطاط کا شکار ہے‘انہوں نے کہا لوگ گاڑیوں سے موٹربائیک پر آرہے ہیں، موٹر بائیک والا سائیکل جبکہ سائیکل ولا پیدل سفر کرنے پر مجبور ہورہا ہے، لوگوں کے لیے بچوں کو تعلیم دلانا، ان کے اخراجات اٹھانا ناممکن ہوگیا ہے. احسن اقبال نے کہا کہ مزدور کسان، ڈگری یافتہ نوجوان پریشان ہیں اس لیے اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اس حکومت کے قائم رہنے سے پاکستان کو شدید داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا رہے گا‘

انہوں نے کہا کہ خطے کی صورتحال کے باعث ہمیں اندرونی اتحاد، داخلی یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن حکومت کا صرف انتقامی ایجنڈا ہے جس کے ساتھ یہ ملک کا شیرازہ بکھیر رہی ہے‘چنانچہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اس نااہل حکومت سے نجات حاصل کرنا پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے. احسن اقبال نے کہا کہ عوام کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہو رہا ہے اس حکومت سے ملک کو داخلی اور خارجی خطرات ہو سکتے ہیں حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اس حکومت کو ہٹانا عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے ملک کے مزدور، کسان اور نوجوان پریشان ہیں.

انہوں نے کہا کہ ملک آئین پاکستان کے علاوہ کسی راستے پر نہیں چلایا جا سکتا حکومت کو گنجائش دینے کا مقصد مسائل کو فروغ دینا ہے‘پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے کہا کہ حکومت ہماری قیادت پر دباﺅ بڑھانا چاہتی ہے. مسلم لیگی وفد میں احسن اقبال، ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق شامل ہیں بلاول بھٹو اور مسلم لیگ نون کے وفد کی ملاقات بلاول ہاﺅس میں جاری ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں اے پی سی کے ایجنڈے پر حکمت عملی طے کی جائے گی

‘قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاب شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے درمیان گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا.

بلاول بھٹو نے شہبازشریف کی مزاج پرسی کی اور ان کی صحت کیلئے نیک تمناﺅں کا اظہار کیا جبکہ شہبازشریف نے سابق صدر آصف زرداری کی صحت کیلئے خیرسگالی کا پیغام دیا‘گزشتہ ہفتے بھی شہبازشریف اور بلاول بھٹو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں دونوں راہنماﺅں نے آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) کے انعقاد پر مشاورت کی تھی. یاد رہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہوئے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا تھا‘انہوں نے کہا تھا کہ پی پی سمیت ملک کی دیگر اپوزیشن جماعتیں پیش کردہ بجٹ پر جلد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کریں گی.