کلبھوشن یادیو سے قونصلر رسائی میں اپیل پٹیشن پر دستخط کروائے جائیں گے

اسلام آباد : پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے قونصلر رسائی میں اپیل پٹیشن پر دستخط کروائے جائیں گے، بھارتی ہائی کمیشن کے2 سفارتکاروں کو محفوظ مقام پر کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی دی گئی، اپیل دائر کرنے کے آرڈیننس کی ڈیڈ لائن 19جولائی کو ختم ہوجائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے جاسوس کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی بھارت کی درخواست پردی ہے۔ بھارتی سفارتکاروں کو قونصلر رسائی اسلام آباد میں محفوظ مقام پر دی گئی ہے۔

کلبھوشن یادیو کے مقام کو سب جیل قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امکان ہے کہ بھارتی سفارتکاروں کی جانب سے کلبھوشن سے ملاقات میں ان کی سزا کیخلاف اپیل پٹیشن پر دستخط کروائے جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان نے دوسری بار بھارتی جاسوس کو اعلیٰ بھارتی سفارتکاروں سے ملاقات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو سے ملاقات کرنے کیلئے پاکستان کی پیشکش قبول کرلی ہے۔ بھارتی جاسو س را ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو دوسری بار قونصلر رسائی دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل ان کی ملاقات ان کے اہلخانہ سے کروائی گئی تھی۔

کلبھوشن یادیو سے ملاقات کیلئے بھارتی اعلیٰ سفارتکار دفتر خارجہ میں موجود ہیں، جو کلبھوشن سے کچھ دیر میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات کیلئے تمام تر انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ یاد رہے وفاقی حکومت نے 20 مئی کو ایک آرڈیننس جاری کیا تھا۔ جس کے تحت کلبھوشن یادیو کو 60 روز میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا کیخلاف اپیل دائر کرنے کا حق دیا گیا تھا۔

اپیل دائر کرنے کے آرڈیننس کی ڈیڈ لائن 19جولائی کو ختم ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ پاکستان نے بھارت کو قونصلر رسائی کی پیشکش بھی کی تھی۔لیکن بھارت نے پہلے تو یہ آفر قبول نہیں کی تھی لیکن آفر قبول کرلی ہے، یہ سارا عمل عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست سے متعلق آرڈینس پر احتجاج کیا ہے۔

یہ آرڈیننس را ایجنٹ کلبھوشن یادیو کیلئے سہولتکاری فراہم کرنا ہے۔رات کے اندھیرے میں ایک آرڈیننس جاری کیا گیا، بین الاقوامی عدالت انصاف نظر ثانی اور از سر نو غور سے متعلق آرڈینس 20 مئی کو جاری ہوا۔ آرڈینس کے مطابق کوئی غیر ملکی شہری، یا مشن کا کوئی شخص فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی یا دوبارہ غور کی درخواست آرڈینس اجرا کے 60 دن کی اندر ہائی کورٹ میں دائر کر سکتا ہے۔