بھارت کا امریکا سے رابط‘چین سے بچنے کے لیے مدد مانگ لی

واشنگٹن : امریکی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور ڈیوڈ ہیل اور بھارتی سیکرٹری خارجہ ہرش شرنگلا نے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ورچوئل دفتر خارجہ کی مشاورت کی. عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارت چین کے ہاتھوں عبرتناک شکست پر زخم خوردہ ہے‘مودی اس شکست کو اپنے سیاسی کیئریرکا خاتمہ سمجھ رہے ہیں اور1962کی چین بھارت جنگ کی طرح موجودہ صورتحال میں بھی امریکا سے مدد کا خواہاں ہے تاہم موجودہ عالمی حالات میں امریکا خود اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ان علاقوں پر اپنا کنٹرول برقراررکھ سکے جن پر اس نے حملے کرکے قبضہ میں لیے تھے.

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے نمائندوں نے ”عالمی سطح کے امور“ پر امریکہ بھارت شراکت پر بات چیت کی اور اپنے راہنماوں کی قائم کردہ امریکہ بھارت جامع عالمگیر تزویراتی شراکت کو مضبوط بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر زور دیا اس گفتگو میں قانون کی بنیاد پر عالمگیر نظام کو لاحق موجودہ خطرات، دوطرفہ اور کثیر فریقی سفارتی تعاون، سمندری سلامتی، اور کوویڈ۔19 وبا کے خلاف عالمگیر اقدامات شامل تھے.

نائب وزیر خارجہ ہیل اور سیکرٹری خارجہ شرنگلا نے ایک دوسرے کے مقاصد کی حمایت کے لیے تمام مسائل اور کوششوں پر قریبی مشاورت کے لیے اتفاق کیا انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ صحت کے شعبے میں امریکہ بھارت شراکت، بشمول ادویہ سازی اور ویکسین کی تیاری میں باہمی تعاون دنیا کو کوویڈ۔19 سے صحت یاب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا.
علاوہ ازیں نائب وزیر خارجہ ہیل اور سیکرٹری خارجہ شرنگلا نے آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کے تصورات کی توثیق کی جہاں تمام ممالک خوشحالی پا سکیں اور ان تصورات کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ہندوالکاہل کے دوسرے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے پر اتفاق کیا دونوں حکام اس برس امریکہ بھارت وزارتی ڈائیلاگ کے منتظر ہیں اور انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر قریبی رابطے میں رہنے کا عزم کیا.

تاہم امریکی جریدے کے مطابق گفتگو کا مرکزی نکتہ چین ‘بھارت کشیدگی ہی تھا1962کی چین بھارت جنگ میں امریکا کے کردار کے حوالے حال ہی سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں والونگ اورلا پاس بھارت کے ہاتھ سے نکل گئے چین کے جدید ہتھیاروں کے مقابلے میں بھارت کے پاس پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی رائفلیں تھیں
ان حالا ت میں دہلی سے واشنگٹن سے مدد کی درخواست کی جس پر امریکہ نے بھارت کوخودکاررائفلیں بجھوائیں مگر اس میں مسلہ یہ تھا کہ بھارتی فوجیوں کو یہ بندوقیں چلانا نہیں آتی تھیں جس پر پنڈت جواہرلال نہرو نے بھارتی فوجیوں کی تربیت کے لیے فوری طور پر دس ہزار امریکی فوجی بجھوانے کی فرمائش کردی اسی دوران لا پاس کے بعد چینی بومڈیلا شہر کی طرف آئے اور مجموعی طور پر بھارت کا 32000 مربع میل علاقہ چین کے کنٹرول میں آ گیا .

نیووِل میکس ویل اپنی کتاب ”انڈیاز چائنا وار“ میں لکھتے ہیں: ‘صورتحال اس قدر خراب ہوگئی تھی کہ انڈین کمانڈر بیجی کول نے نہرو سے کہا کہ کچھ غیر ملکی افواج کو مدد کے لیے بلایا جائے تاکہ چین کے خلاف جوابی کارروائی ہوسکے‘اس وقت بھارت میں امریکی سفیر جے کے گالبریتھ تھے انہوں نے اپنی سوانح عمری ”اے لائف ان آور ٹائمز“ میں لکھا ہے ہر سطح پر انڈین صدمے کی حالت میں تھے ملک بھر میں انڈین ایئرلائنز کی پروازیں منسوخ کردی گئیں تاکہ ان طیاروں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے نہ صرف آسام بلکہ بنگال اور یہاں تک کہ کلکتے پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے تھے.

اسی دوران 19 نومبر1962 کو نہرو نے امریکی صدر کینیڈی کو دو خطوط لکھے یہ خطوط واشنگٹن میں انڈین سفارتخانے سے وائٹ ہاﺅس بھیجے گئے تھے ان خطوط کے ریکارڈ میں خاص طور پر دوسرے خط کو اس وقت تک ظاہر نہیں کیا گیا تھا‘بعد میں امریکی سفیر گیلبریتھ نے واشنگٹن کو بجھوائی گئی اپنی ڈائری میں لکھا ایک نہیں، ہمارے پاس مدد کے لیے دو درخواستیں آئی تھیں دوسری درخواست بہت خفیہ رکھی گئی یہ خط صرف صدر کے لیے تھا اور پھر اسے ضائع کیا جانا تھا‘اس کے بعد آنے والی بہت ساری بھارتی حکومتوں نے اس طرح کے کسی بھی خط کے وجود سے انکار کیا ہے
‘لیکن بھارتی صحافی اندر ملہوترا نے 15 نومبر2010 کو انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے مضمون میں لکھا کہ نہرو کے جانشین لال بہادر شاستری نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سیکرٹریٹ اور وزارت خارجہ میں موجود تمام ریکارڈز کی چھان بین کرائی لیکن ان خطوط کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ملا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے آرکائیوز نے ان خطوط کے وجود کو تسلیم کیا ہے تاہم ان میں کیا لکھا ہے، اسے راز رکھا گیاپھر 2010 میں ہی جے ایف کینیڈی صدارتی لائبریری اور میوزیم نے ان خطوط کو عام کر دیا‘

اس خط میں نہرو نے لکھا”چینیوں نے نیفا کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ کشمیر کے لداخ میں چوشال پر بھی قبضہ کرنے والے ہیں‘انہوں نے لکھا کہ بھارت کو چینی حملے سے نمٹنے کے لیے نقل و حمل اور جنگی طیاروں کی ضرورت ہے نہرو نے اس خط کا خاتمہ اس طرح کیا کہ وہ اسی قسم کا خط برطانوی وزیر اعظم ہیرولڈ میکمیلن کو بھی روانہ کر رہے ہیں‘وائٹ ہاﺅس کو ابھی یہ خط موصول ہوا ہی تھا کہ گیلبریتھ نے امریکی صدر، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کو ایک خفیہ ٹیلی گرام بھیجا جس میں لکھا تھا مجھے خفیہ طور پر معلوم ہوا ہے کہ نہرو آپ کو ایک اور خط بھیجنے والے ہیں اور اس کے بارے میں وزرا تک کو نہیں بتایا گیا ہے.

اس معاملے میں اتنی رازداری رکھی گئی کہ امریکہ میں بھارتی کے سفیر بی کے نہرو نے 19 نومبر کو صدر کینڈی کو دوسرا خط اپنے ہاتھوں سے دیا‘ اس خط میں نہرو نے لکھا”آپ کو پہلا پیغام بھیجنے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی نیفا میں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے پوری برہمپتر وادی کو سنگین خطرہ لاحق ہے اگر فوری طور پر کچھ نہیں کیا گیا تو پورا آسام، تریپورہ، منی پور اور ناگا لینڈ چین کے ہاتھوں میں چلا جائے گا“

اس کے بعد نہرو نے واضح مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہمیں کم سے کم جنگی طیاروں کے 12 سکواڈرن چاہییں ابتدا میں جب تک ہمارے پائلٹ ان کو چلانے کی تربیت نہیں لے لیتے اس وقت تک امریکی پائلٹوں کو انھیں چلانا ہوگا امریکی پائلٹوںصرف بھارتی شہروں اور اڈوں کی حفاظت کے مخصوص رہیں گے جبکہ تبت کے اندر فضائی حملے بھارتی فضائیہ کرے گی اس کے لیے ہمیں بی 47 بمبار کے دو سکواڈرن کی ضرورت ہوگی.

نہرو نے کینیڈی کو یقین دلایا کہ ان ہتھیاروں کا استعمال صرف چین کے خلاف ہوگا اور پاکستان کے خلاف ان کا استعمال کبھی نہیں ہوگا تاہم بھارت نے1965کی پاک بھارت جنگ میں وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان امریکی ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا

. دوسرے خط میں نہرو نے کینیڈی سے 350 جنگی طیاروں کا مطالبہ کیا تھا ان کو چلانے کے لیے کم از کم دس ہزار سپورٹ سٹاف کی ضرورت تھی‘ڈینس کک اپنی کتاب ”انڈیا اینڈ یونائٹیڈ سٹیٹس: ایسٹرینجڈ ڈیموکریسیز“ میں لکھتے ہیں امریکہ میں انڈین سفیر بی کے نہرو کو وزیر اعظم نہرو کے خط سے اتنا صدمہ پہنچا کہ انہوں نے اپنے کسی عملے کو یہ خط نہیں دکھایا اور اپنی میز کی دراز میں رکھ دیا بعد میں انہوں نے ایک مورخ سے کہا کہ نہرو نے نفسیاتی طور پر بہت دباﺅمیں آنے کے بعد ہی یہ خطوط لکھے ہوں گے‘بعد میں بی کے نہرو نے اپنی سوانح عمری ”نائس گائز فنیش سیکنڈ“ میں لکھا پہلا خط ہی ہماری ناوابستہ پالیسی کے خلاف تھا دوسرا خط اتنا قابل رحم تھا کہ اسے پڑھ کر میں اپنی غیرت اور صدمے پر بمشکل قابو کرسکتا تھا.
دہلی کے روزویلٹ ہاﺅس میں سفیر گیلبریتھ نے 20 نومبر1962 کے اپنی ڈائری میں لکھا کہ آج کا دن دہلی میں سب سے زیادہ خوف کا دن تھا میں نے پہلی بار لوگوں کا حوصلہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا میں نے وائٹ ہاﺅس کو لکھا کہ فوری طور پر سامان اور 12 سی -130 طیارے بھی بھیجے نیز ساتویں بیڑے کو خلیج بنگال کی طرف روانہ کیا جائے اگرچہ بھارت نے امریکی بحریہ سے کوئی مدد طلب نہیں کی تھی لیکن گیلبریتھ نے سوچا کہ خلیج بنگال میں ساتویں بیڑے کی موجودگی چین کو ایک واضح پیغام دے گی کہ امریکہ اس بحران میں بھارت کے ساتھ کھڑا ہے.

صدرکینیڈی نے فورا ہی گیلبریتھ کا مشورہ قبول کرلیا اور ہونولولو میں پیسیفک فلیٹ کے ہیڈکوارٹر سے کہا کہ فوری طور پر ساتواں بیڑا بھیجا جائے حکم ملنے پر یو ایس ایس کیٹی ہاک کو خلیج بنگال بھیج دیا گیا‘نہرو کے دونوں خطوط کا جواب دیتے ہوئے بھارت کی ضروریات کا جائزہ لینے کے لیے کینیڈی نے فورا ہی ایورل ہیری مین کی سربراہی میں ایک اعلی طاقت والی ٹیم کو دہلی روانہ کیا‘فوری طور پر امریکی فضائیہ کے سی 135 طیارے کو اینڈریوز ایئرپورٹ سے روانہ کیا گیا. لیکن امریکی مداخلت سے پہلے ہی 21 نومبر کی صبح چین نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا اوراپنی افواج سات نومبر 1959 کو لائن آف ایکچول کنٹرول سے بھی 20 کلومیٹرلے گیا.