ماں نے نابالغ بیٹی کی شادی ایک منشیات کے عادی شخص سے کردی

لاہور: ماں نے نابالغ بیٹی کی شادی ایک منشیات کے عادی شخص سے کردی جس کے بعد اس خاتون کو اس کے شوہر نے فروخت کرنا شروع کر دیا۔ اپنے ویڈیو بیان میں بات کرتے ہوئے نورین کا کہنا تھا کہ میری عمر چھوٹی تھی جب میرے والد فوت ہو گئے، میری والدہ مجھے میری دادی کے پاس چھوڑ گئی، مجھے 10 سال کی عمر میں وہ واپس لینے آئی اور میری اسی عمر میں شادی کر دی گئی تھی، میرا شوہر ہر روز انجان مردوں کو گھر لاتا تھا اور مجھے فروخت کیا جاتا تھا، مجھے 7 سال تک زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

نورین نے بتایا ہے کہ وہ تین بچوں کی ماں ہے۔

نورین نے بتایا ہے کہ اس نے سات سال لگاتار کوشش کی کہ وہ اس درندہ صفت شخص کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے، لیکن ایک دن وہ ہمت کر کے گھر سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی جس کے بعد وہ اپنے ماموں کے گھر چلی گئی۔

نورین نے بتایا ہے کہ ماموں کے گھر جا کر اسے محسوس ہوا ہے کہ شاید اب وہ محفوظ ہو گئی ہے، لیکن کچھ دن بعد میرے ماموں نے بھی اپنے بیٹے اور ایک انجان آدمی کے ساتھ مل کر مجھے زیادی کا نشانہ بنا دیا۔

نورین نے بتایا ہے کہ اس نے اپنے ماموں کے ظلم کے بعد بھی ہار نہیں مانی اور کسی طرح اپنی ایک آنٹی کو اطلاع دے دی جنہوں نے بعد میں اسے تحفظ فراہم کیا۔ پاکستان میں اس سے قبل بھی زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں جس میں خواتین کو ان کے شوہر کی جانب سے ہی بدفعلی کی طرف جانے پر مجبور کیا جاتا ہے،

نورین کا واقع بھی کچھ اسی طرح کا ہے جس میں پہلے اس کی والدہ اور شوہر نے 7 سال تک فروخت کیا لیکن بعد میں جب وہ تحفظ کے لئے اپنے ماموں کے پاس گئی تو وہاں بھی کچھ دن گزرنے کے بعد اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ویڈیو بیان میں نوشین نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔