لاہور،ڈاکوؤں کی واردات کے دوران 19 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی

لاہور : ڈاکوؤں نے واردات کے دوران نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔تفصیلات کے مطابق گجرپورہ میں 19 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی ایک کلینک پر کمپاؤنڈر ہے جسے گجر پورہ میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ڈاکٹر نے اپنے بیان میں پولیس کو بتایا کہ کلینک بند کرکے جارہے تھے کہ راستے میں مسلح ڈاکوؤں نے روکا۔

چار ڈاکو نوجوان لڑکی کو کھیتوں میں لے گئے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ ڈاکو نقدی، موبائل فون اور سونے کی بالیاں بھی لوٹ کر لے گئے۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے ۔ملزمان کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا تھا تاہم لڑکی کے بیانات کے بعد کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا اور قانونی کاروائی کرتے ہوئے سخت سزا دی جائے گی۔ رواں ہفتے ہی گجرانوالہ سے ایک زیادتی کا واقعہ رپورٹ ہوا تھا۔بتایا گیا کہ گوجرانوالہ کے تھانہ دھلے کے علاقے میں نئی نویلی دلہن کو دوسرے روز ہی طلاق دے کر تین لاکھ روپے میں فروخت کردیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق 16 روز سے لاپتہ لڑکی داتا دربار لاہور سے برآمد کر لی گئی ۔

دھلے پولیس نے لڑکی کے بیان پر کاروائی شروع کر دی ۔متاثرہ لڑکی نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا کہ مجھے نشہ اور سیرپ پلایا گیا اور پھر فروخت کر دیا گیا ۔ ملزم سے 13 جون کو نکاح ہوا۔اور دوسرے روز ہی اس نے مجھے طلاق دے دی۔ 16 روز تک ملزمان مختلف مقامات پر لے جا کر میرے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے۔

تھانہ دھلے پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ایس ایچ او طیبہ حمید کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کے بیانات کی روشنی میں ملزمان کے خلاف مکمل کاروائی ہوگی،دوسری جانب گوجر خان پولیس نے اپنے ہی جان پہچان کے طلباء سے زیادتی اور ان کی نازیبا ویڈیو بنانے کے مقدمات میں مطلوب مرکزی ملزم گرفتارکر لیا۔