مودی سرکار کو ایک اور جھٹکا، بھوٹان نے بھارت کا پانی روک لیا

نئی دہلی : بھوٹان نے بھارت کا پانی روک لیا۔تفصیلات کے مطابق بھارت کو ہر طرف سے منہ کی کھانی پڑ رہی ہے۔کبھی نیپال کے ہاتھوں پسپائی، کبھی لداخ میں ہوئی خوب پٹائی، مودی نے بھارت کا مذاق بنوا دیا۔ اور اب نیپال کے بعد بھوٹان نے بھی بھارت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے۔بھارتی ریاست آسام کے سرحدی اضلاع کا پانی خاموشی سے روک لیا۔

بھارتی اخبار کے مطابق آسام کے سرحدی ضلع باکسا کے چھ ہزار سے زائد کسانوں نے گزشتہ روز پانی کی اچانک بندش کے خلاف مظاہرہ کیا۔اخبار کے مطابق بھوٹان نے کوئی وجہ بتائے بغیر پانی بند گیا۔بھوٹان کے اس فیصلے کے خلاف ضلع باکسا اور دیگر علاقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔دوسری جانب نیپال نے بہار میں اراضی کا دعوی کرتے ہوئے بھارتیوں کو پشتہ بندی کے کام سے روک دیا ہے۔

نیپالی پارلیمان کے ایوان بالا کی جانب سے بھارتی علاقوں کو ملک میں شامل کرنے کے لیے ایک نئے سیاسی نقشہ کی توثیق کے بمشکل چار دن بعد میں نیپال نے ایک بار پر بھارت کے ساتھ اپنی بین الاقوامی سرحد کی تکرار کی ہے اور اس بار تنازع کا علاقہ بہار کے ساتھ نیپال کی سرحد ہے۔ نیپالی حکام نے حیرت انگیز طور پر بہار حکومت کے محکمہ آبی وسائل کے حکام کو سرحد پر پشتہ بندی سے متعلق کام شروع کرنےسے روک دیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ یہ علاقہ ان کی سر زمین کا حصہ ہے۔

یپال نے ’لیپولیخ‘ کے سرحدی علاقے میں فوج تعینات کردی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق عارضی طور پر لگائے گئے کیمپوں میں نیپال کے فوجیوں کو دیکھا جا سکتا ہے، ایسا اس علاقے میں پہلے بار دیکھنے میں آیا ہے۔اس سے قبل نیپال کی پارلیمنٹ نے نئے نقشے میں لیپولیخ کے علاقے کو نیپال کا علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مقامی رہائشی نے انڈیا ٹوڈے ٹی وی کو بتایا کہ نیپالی فوج نے ایک ہفتہ قبل کالابانی سے 40 کلومیٹر پہلے ملبار نامی جگہ پر ایک چوکی بھی تعمیر کی تھی اور اہلکاروں کو وہاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لایا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ لیپولیخ کے علاقے کے پاس دھڑکولہ ہے جو نیپال اور بھارت کی سرحد سے 80 کلومیٹر دوری پر موجود ہے۔ یہاں بہت سے لوگ چھوٹے سے گاؤں میں مقیم ہے اور اس راستے کو سفر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن حالیہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہاں سفری پابندی لگائی گئی ہے۔