چین اور بھارت کے مابین دولت بیگ اولڈی پر بھی محاذ گرم،بھارتی فوج کو گشت سے روک دیا

لداخ : چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازع طول پکڑ گیا۔ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل دولت بیگ اولڈی پر بھی محاذ گرم ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق ۔بھارت کو چین سے چھیڑ خانی مہنگی پڑ گئی،ڈیپ سانگ سیکٹر میں بھی چین نے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ اسٹریٹجک اہمیت کی حامل مشرقی لداخ کے علاقے دولت بیگ اولڈی پر بھی محاذ گرم ہو گیا ہے۔

چین نے بھارتی فوج کو پوائنٹ 10 سے 13 تک گشت کرنے سے روک دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دولت بیگ اولڈی سیاچین گلیشیئر پر سپلائی کا اہم ذریعہ ہے۔چین نے پاکستان کی طرف جانے والے قراقرم ہائی وے کی حفاظت کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔چین ڈیپ سانگ سیکٹر میں اپنی پوزیشن مضبوط کر چکا ہے۔ڈیپسنگ کے علاقے میں بڑی تعداد میں چینی فوجیوں کے جمع ہونے کی اطلاعات ہیں۔

بھارتی ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے متعدد خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں دعوی کیا گیا ہے کہ دولت بیگ اولڈی میں بھارتی فضائیہ کی ایک بیس سے صرف تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ڈیپسنگ میں چین نے بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کر دی ہیں۔چین نے اس مقام پر بھاری فوجی گاڑیاں اور فوجی ساز و سامان بھی جمع کر رکھا ہے۔ ادھر بھارت کی جانب سے بھی سرحد پر فوجی بھیجے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

دونوں ملکوں کے مابین ابھی لداخ اور سکم میں بھی کشیدگی جاری ہے۔چینی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ سرحدی کشیدگی کا ذمہ دار بھارت ہے۔نئی دہلی نے وادی گلوان میں داخل نہ ہونے کا معاہدہ توڑا۔و روز قبل بھارتی اور چینی فوج کے مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہوا تو پینگونگ سے چینی فوج کی واپس کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے مودی سرکار پر پھر طنز کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ چین نے ہماری زمین لے لی اور بھارت واپسی کیلئے مذاکرات کررہاہے، چین کہتا ہے یہ بھارت کی زمین نہیں اور مودی سرعام چینی دعوے کی تائید کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی بھارتی فوج کے بجائے چین کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ نریندر مودی نے آل پارٹیز کانفرنس میں کہا تھا کہ نہ چین ہمارے علاقے میں گھسا نہ کسی زمین پر قبضہ ہوا۔