فواد چوہدری کے انٹرویو کا معاملہ،بات استفعیٰ تک پہنچ گئی

لاہور: وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے انٹرویو نے اپنی ہی حکومت اور پارٹی میں ہلچل مچا دی ہے۔ گزشتہ روز منظرعام پر آنے والے انٹرویو میں فواد چوہدری نے انکشاف کیا تھا کہ اسدعمر، جہانگیر ترین اور شاہ محمودقریشی کی لڑائیوں سے الیکٹڈ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔فواد چوہدری کے انٹرویو کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی گرما گرم بحث ہوئی۔

شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے فواد چوہدری کے انٹرویو پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی ذمہ داری دکھائی ہے۔اور وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے بھی فواد چوہدری کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری اختلاف اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں،یہ کسی جگہ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ جن لیڈروں کا نام لیا گیا وہ عمران خان کی قیادت میں متحد اور متفق ہیں۔

انہوں نے فواد چوہدری سے مطالبہ کیا کہ عمران خان ٹیم بنانے میں ناکام ہے تو آپ استعفیٰ دے دیں،میں عمران خان کے علاوہ کسی لیڈرشپ کو نہیں مانتا۔ں۔ نجی ٹی وی چینل میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ فوادچوہدری کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ میڈیا کے سامنے جب بیٹھنا ہے تو کس طرح بات کرنی ہے۔ آدھی دنیا شراب پیتی ہے، اگر ہم مسلمان معاشرے کی بات بھی نہ کریں تو غیر ملکی میڈیا میں بھی بیٹھنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔

فواد چوہدری کبھی علمائے دین کے خلاف بولنا شروع کر دیتے ہیں تو کبھی پارٹی کے خلاف، مجھے 7 مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا، لیکن ہمیشہ میں نے پارٹی کے دفاع کی جنگ لڑی ہے۔فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ جب آپ پارٹی قیادت کی عزت کرتے ہیں تو آپ کو اپنا من مارنا پڑتا ہے، اس طرح کے بیانات دے کر پارٹی سے وفاداری کی مثال نہیں دی جا سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں