لاہور کے اسپتال میں خاتون سے زیادتی کا معاملہ،متاثرہ سکول ٹیچر نے اہم انکشاف کر دیا

لاہور: آج لاہور میں اسپتال کے اندر خاتون ٹیچر کے ساتتھ اسپتال عملے کی مبینہ زیادتی کی خبر سامنے آئی تھی۔خاتون سکول ٹیچر نے اسپتال جانے پر عملے کی جانب سے جنسی زیادتی اور ویڈیو بنانے کا الزام عائد کیا ہے جس کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔لاہور کی خاتون سکول ٹیچر نے بیان دیا ہے کہ ویلنشیا ٹاؤن میں واقع اسپتال کے عملے میں شامل افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔

ساتھ ساتھ اسکی تصاویر اور ویڈیوز بناتے رہے۔اس کے ساتھ آنے والی خاتون کے شور مچانے کے بعد اسپتال کے عملے نے ویڈیو بنانے والے لڑکے کو بھگا دیا۔اس واقعے کا مقدمہ تھانہ کاہنہ میں درج کر لیا گیا ہے۔مقدمہ خاتون ٹیچر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔جس میں بیان کیا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے آنے والے مریضوں کی برہنہ ویڈیو بنائی جاتی ہیں اور میرے ساتھ بھی یہی واقعہ پیش آیا ہے۔

متاثرہ خاتون کی والدہ کا کہنا ہے کہ میری بیٹی سکول ٹیچر ہے،بلڈ پریشر کم ہونے پر اسپتال لایا گیا تھا۔اسپتال میں موجود عملے کی جانب سے میری بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور شور مچانے پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف نے ویڈیو بنانے والے لڑکے کو اسپتال سے بھگا دیا۔خیال رہے کہ اس وقت پورے ملک میں میڈیکل ایمرجنسی جاری ہے۔

کورونا کی وجہ سے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ دن رات قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن اسی دوران کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس مشکل وقت میں بھی صرف بدفعلی کے بارے میں ہی سوچ سکتے ہیں اور ان کی حقیقت سب کے سامنے آ رہی ہے

تا ہم پولیس کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ مریضہ سے زیادتی کے الزام میں ایک ملازم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ مریضہ کو بلڈپریشر کم ہونے پر نجی اسپتال لایا گیا تھا کہ وہاں ملزم نے مریضہ کی برہنہ تصاویر بنائیں اور زیادتی کی کوشش کی لیکن مریضہ کی بہن کے موقع پر پہنچنے پر ملزم اسپتال سے فرار ہو گیا۔