3بہنوں نے گھریلو ملازمہ سے جنسی زیادتی کے لیے گھر پر مرد بلالیے اور پھر۔۔۔

رحیم یارخان : گھریلو ملازموں کے ساتھ بدترین سلوک کی ایک اور مثال سامنے آگئی۔ رحیم یار خان میں 3بہنوں نے اپنے گھرمیں مقیم ملازمہ کو نہ صرف جسم فروشی پر مجبور کرنے کی کوشش کی بلکہ اس سے زیادتی کے لیے کچھ مردوں کو گھر بھی بلالیا۔

عباسیہ ٹاون کی رہائشی ایک خاتون نے( جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ) سٹی-سی ڈویژن پولیس میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) نمبر 347/20 درج کروائی ہے جس میں کہا ہے کہ وہ عباسیہ ٹاؤن میں ایک خاتون کے گھر میں گھریلو ملازم کے طور پر کام کر رہی تھیں اور گزشتہ دو سالوں سے وہیں رہ رہی تھیں۔

اس دوران ان کی آجر نے انہیں غیرقانونی طور پر گھر مین قید کیے رکھااور اپنے گھر جانے کی اجازت تک نہیں دی، ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے مزید کہا کہ نافرمانی پر مالکن نے دو بہنوں کے ساتھ مل کرساتھ کر جسم فروشی اور دھمکی کی سزا دی، اس کے بعد کچھ مردوں کو گھر پر بلالیا جنہوں نے اس سے زیادتی کی کوشش کی۔

مدعی خاتون کے مطابق 22مئی کو اس نے زیادتی کی کوشش پر مزاحمت کی تو نہ صرف اسے تشددکا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس کا سر بھی منڈوا دیا گیا۔

خاتون نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس کی آجر نے اسے کئی مہینوں سے اس کی تنخواہ بھی نہیں دے رہی ہیں۔

ہفتہ کی رات شکایت کنندہ اپنے آجر کے گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی اور اس نے چند پڑوسیوں سے اپنی پریشانی بیان کی تھیں جو اسے ملزمان کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے لیے پولیس کے پاس لائے تھے۔

پولیس ترجمان احمد چیمہ نے بتایا کہ آجر اور اس کی دو بہنوں کو ان کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے بعد گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ پولیس کو دیگر چار ملزمان کی تلاش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار خواتین کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے جوڈیشل ریمانڈ ملنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں