دورۂ انگلینڈ پر 14آفیشلز کو لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں، سرفراز نواز

سرفراز نواز طلسمی گیند باز تھے
انکا تفصیلی انٹرویو بہت جلد نوائے جنگ پر

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز کا کہنا ہے کہ دورۂ انگلینڈ پر 14آفیشلز کو لے جانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، لمبی ٹیم انتظامیہ کا مقصد دوستیاں نبھانا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے لندن سے ویڈیو کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ معاون کوچز کی موجودگی میں ہیڈ کوچ کے اسسٹنٹ کا کوئی جواز نہیں ہے، نئے قوانین کے باعث ریورس سوئنگ کا عنصر ختم ہوجائے گا۔

سرفراز نواز نے کہا کہ گیند چمکانےکے لیے تھوک کا متبادل دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی طرز کا ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام پاکستان کے لیے سودمند نہیں، نئے ڈومیسٹک نظام کے باعث کھلاڑی فاقوں پر مجبور ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ میں اداروں کی ٹیمیں بحال کی جائیں۔

ضرور پڑھیں   ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پاکستان کی نمبر ون پوزیشن مزید مستحکم

سرفراز نواز نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کا احتساب کا نعرہ مضحکہ خیز ہے، ملک قیوم رپورٹ پرعمل درآمد نہیں ہوا، ملک قیوم انکوائری کےداغدار کردار کرکٹ بورڈ کا حصہ ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ عطا الرحمان نےماضی میں بھی بیانات بدلے، ملک قیوم انکوائری کو دبانےکی کوشش داغدار کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے مزید کہا کہ ملک قیوم رپورٹ کو جلانے سے داغدار کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا۔