پنجاب حکومت کا کل رات 12 بجے کے بعد لاہور کے کئی علاقے بند کرنے کا فیصلہ

لاہور: پنجاب حکومت نے کل رات 12 بجے کے بعد لاہور کے کورونا سے متاثرہ علاقوں کو بند کر نے کا فیصلہ کر لیا،تفصیلات کے مطابق وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کے لاہور کورونا کا گڑھ بن چکا ہے ہے۔کل رات 12 بجے کے بعد لاہور کے کئی علاقوں کو بند کر دیا جائے گا۔کم سے کم ان علاقوں کو دو ہفتے کے لیے بند کیا جائے گا۔

بند کیے گئے علاقوں میں فارمیسیز اور گروسری کی دوکان کھلی رہیں گی۔صورتحال کو دیکھتے ہوئے علاقوں کو کھولنے کا فیصلہ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کے عوام ایس او پیز کو سختی سے فالو کرتے رہیں تاکہ کورونا کو روکا جا سکے۔ماسک کے استعمال سے وبا کے پھیلاؤ کو 50 فیصد تک روکا جا سکتا ہے۔جن علاقوں میں کورونا زیادہ پھیل رہا ہے ان کو لاک ڈاؤن کر دیا جائے گا۔

شاہدرہ،مزنگ ،کینٹ،ہرنس پورہ، شادباغ اور گلبرگ کے کچھ علاقے بند کر دیے جائیں گے۔شاہدرہ کے کچھ علاقے نشتر ٹاؤن، اقبال ٹاؤن کو کل بند کر دیا جائے گا،ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء اور فارمیسی کھلی رہے گی۔کل رات 12 بجے کے بعد لاہور کے متاثرہ علاقوں کو بند کر دیا جائے گا۔ ۔یاسمین راشد نے مزید کہا کہ اگر حکومت فیل ہوگئی ہے تو پھر ساری دنیا کی حکومتیں فیل ہیں۔

چین میں دوبارہ کرو نہ کا پھیلاؤ نظر آ رہا ہے۔واضح رہے کہ لاہور میں کورونا وائرس تشویشناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور میں افراد کورونا سے جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک شخص بھی صحت یاب نہ ہو سکا ۔ اس کے علاوہ بتایا جا رہا ہے کہ لاہور کے ہسپتالوں میں آئی سی یو اور ایچ ڈی یونٹس بھر گئے ہیں جس کے بعد اب کورونا کے سنجیدہ مریضوں کے علاج کے لئے جگہ نہ ہونے کے برابر ہے، اب مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں بھیجنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں اب مزید مریضوں کو رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سروسز، جناح، جنرل ہسپتال اور کوٹ خواجہ سعید میں آئی سی یو ڈیپارٹمنٹس بھرگئے۔ میو ہسپتال میں سات، پی کے ایل آئی اور گنگارام میں ایک ایک آئی سی یو دستیاب ہیں۔ جس رفتار سے لاہور میں کورونا کا وار تیز ہو رہا ہے، اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ باقی بیڈز اور آئی سی یو بھی بہت جلد مریضوں سے بھر جائیں گے کیونکہ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ نہیں ہے۔