پنجاب میں کورونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار بھی سر اٹھانے لگا

لاہور: پنجاب میں کورونا کے بعد ٹائیفائیڈ بخار بھی سر اٹھانے لگا ہے۔کورونا اور ٹائیفائیڈ کی ملتی جلتی علامات کی وجہ سے ڈاکٹرز پریشان ہوگئے ہیں۔تدریسی اور نجی اسپتالوں میں ٹائیفائیڈ کے سیکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پنجاب میں 10 روز کے دوران ٹائیفائیڈ کے 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔لاہور کے 5 بڑے اسپتالوں میں 8 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

زیادہ کیسز سروسز، جناح،میو، جنرل اور چلڈرن ہسپتال میں رپورٹ ہوئے ہیں۔وی سی یو ایچ ایس ایس کا کہنا ہے کہ کورونا اور ٹائیفائیڈ سے اموات کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ سے چالیس فیصد اموات ہورہی ہیں۔ڈاکٹر جاوید حیات کا کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ میں بخار 103 اور 104 تک ہوتا ہے۔
جب کہ کورونا میں بخار ہلکا رہتا ہے۔

بخار،کھانسی، جسم درد پیٹ کی خرابی ٹائیفائیڈ اور کورونا کی علامات ہیں ہیں۔رکن ایڈوائزری کرونا گروپ ڈاکٹر صومیہ کا کہنا ہے کہ اموات کی بڑی وجہ ٹائیفائیڈ بخار بھی ہے۔گندا پانی اور مضر صحت خوراک ٹائیفائیڈ کی بڑی وجہ ہیں۔دوسری جانب بلوچستان کے کئی شہروں میں کورونا کے ساتھ ساتھ ٹائیفائیڈ کی بیماری کے پھیلائو میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق بچے بھی بڑی تعداد میں اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں

کوئٹہ کے دو بڑے سرکاری ہسپتالوں سول ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس میں فرائض انجام دینے ولے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں کوئٹہ، پشین، چمن، مستونگ، بولان، سبی، نصیرآباد ،تربت اور دیگر علاقوں میں ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ یعنی ادویات کے خلاف مزاحمت کرنے والے ٹائیفائیڈ کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ میڈیسن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خالد شاہ نے کہا ہے کہ ٹائیفائیڈ کی یہ قسم خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے اور اب بیشتر ادویات اس بیماری کے خلاف مدافعت پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں’ٹائیفائیڈ کی یہ جدید شکل اب پھیل رہی ہے اور صرف سول ہسپتال کوئٹہ میں قائم ایک وارڈ میں دو ماہ کے دوران تقریبا 60 سے 70 ایسے مریضوں کو لایا گیا ہے جن میں ملٹی ڈرگ ریزیسٹنٹ یا ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی تشخیص ہوئی۔