حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اور اخراجات کو منجمد کرنے پر اتفاق

اسلام آباد : حکومت پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز(آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ مذاکرات کا ایک اور کامیاب دور ہوا جس میں وفاقی حکومت کا بجٹ اور اخراجات کو منجمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے‘معتبرذرائع کے مطابق ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات آئندہ سال بھی موجودہ سطح پر برقرار رہیں گے وفاقی اورصوبائی سطح پراخراجات میں کمی کے لیے سب قربانی دیں گے.

حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن بڑھانے پر ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے آئی ایم ایف نے 4950ارب ٹیکس وصولیوں کے ہدف پر رضامندی ظاہر کر دی ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ سال کے میزانیے میں دفاعی بجٹ 1300سے1400ارب روپے کے درمیان رکھنے کا امکان ہے جب کہ پی ایس ڈی پی 650ارب روپے تک ہی محدود رہے گا. مختلف محکموں اور اداروں کی تنخواہوں میں تفریق ختم کی جائے گی تمام اداروں اور محکموں کی تنخواہیں مناسب اور مساوی سطح پر لائی جائے گی

حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 9 فیصد تک لانے پر اتفاق ہوا ہے آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی رضا مندی ظاہر کر دی ہے کہ اکتوبر تک بجلی اور گیس مہنگی نہیں ہوگی.

ضرور پڑھیں   ”ایک پپی ادھر ،ایک پپی ادھر “فواد چوہدری اور رانا ثنا اللہ کی ایسی ویڈیو سامنے آگئی کہ دیکھ کر پاکستانیوں کو یقین نہ آئے

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریلیف پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان نان ٹیکس آمدن بڑھائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف 30 ستمبر تک شرائط نرم رکھے گا وفاقی حکومت کے اسٹیٹ بینک سے قرض بدستور منجمد رکھے گی اور پاکستان موجودہ قرض پروگرام پر کاربند رکھے گا.
یاد رہے کہ آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا اور اطلاعات ہیں کہ کورونا وائرس کے سبب معیشت کو جو نقصان ہوا اس کے باعث بجٹ کے اہداف کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزارتوں کی طرف سے دی گئی بجٹ تجاویز پر بھی مزید کٹ لگایا گیا ہے

ضرور پڑھیں   عامر لیاقت نے میرے بارے میں جو کہا اس پر انہیں معاف کرتا ہوں، عمران خان

بجٹ کا حجم 7 ہزار 600 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے نئے مالی سال میں وفاق کی خالص آمدن کا تخمینہ 4 ہزار 200 ارب روپے ہو گا جبکہ خسارے کا تخمینہ 2 ہزار 896 ارب روپے لگایا گیا ہے.

کورونا وائرس کے سبب معیشت کو جو نقصان ہوا اس کی وجہ سے بجٹ کے اہداف کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزارتوں کی طرف سے دی گئی بجٹ تجاویز پر بھی مزید کٹ لگا دیا گیا ہے ذرائع نے بتایا کہ بجٹ کا حجم 7 ہزار 600 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے نئے مالی سال میں وفاق کی خالص آمدن کا تخمینہ 4 ہزار 200 ارب روپے ہو گا جبکہ خسارے کا تخمینہ 2 ہزار 896 ارب روپے لگایا گیا ہے.

اطلاعات ہیں کہ بجٹ میں دفاع کے لیے ایک ہزار 402 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ سبسڈی کے لیے 260 ارب اور پینشن کے لیے 475 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے. ذرائع نے بتایا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے شرح نمو کا ہدف 3 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے اگلے مالی سال وفاقی حکومت کے اخراجات 495 ارب روپے رہیں گے جبکہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ شرح نمو کے 4 اعشاریہ ایک فیصد تک جائے گا اور آئندہ 3 سال میں برآمدات میں 30 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے.

ضرور پڑھیں   وزیر اعظم عمران خان کا شہید نعیم راشد کو قومی اعزاز سے نوازنے کا اعلان

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بارے میں مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے تاہم ان کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کے پھیلاﺅکو قابو میں رکھنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاﺅن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی ابتری کے پیش نظر صنعتوں کو سہولت دینے کے لیے آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا.