لداخ کے معاملے پر بھارت کی ملٹری قیادت اور سیاستدانوں میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے

لاہور: لداخ کے معاملے پر بھارت کی ملٹری قیادت اور سیاستدانوں میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق لداخ میں بھارتی فوج کو بدترین شکست اور پوری دنیا میں مذاق بننے پر اعلی ملٹری قیادت اور سیاستدانوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔نریندر مودی کی کابینہ کے اندر سے بھی لداخ کے معاملے پر حکومت اور فوج دونوں کے خلاف نہ صرف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں بلکہ کئی حکومتی ذمہ داران نے اعلیٰ فوجی افسروں کو تبدیل کرنے پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔

بھارت کے اندر کشمیر کے بعد اس معاملے پر بھی بھارتی فوج اور حکومت اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔باقاعدہ اپوزیشن جماعتوں اور خود حکومت کے اندر موجود لوک سبھا کے ارکان بھی اس پر بول رہے ہیں اور اس حوالے سے آرمی چیف اور را کے چیف کو بدلنے تک کا مطالبہ ہو رہا ہے۔

بھارت کے اندر لداخ کے معاملے پر باقاعدہ اپوزیشن کا اجلاس بھی ہوا جس میں ملٹری قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور نریندر مودی کو the man who destroy India کا نام دیا گیا ہے۔

نریندر مودی نے لداخ کے معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنے کے لئے کوشش کی تو اس پر اپوزیشن جماعتوں نے واضح طور پر نہ صرف انکار کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ نریندر مودی کی طرف سے بلوائی گئی کسی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ باقاعدہ بھارت کے اندر لداخ کے معاملے پر فوجی افسران کے خلاف بینرز گئے ہیں اور بھارت کے اندر سوشل میڈیا پر بھی یہ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔نریندر مودی نے اپنی پارٹی کے اہم ترین افراد اور اعلی فوجی افسران کی ایک مشترکہ میٹنگ بلائی ہے کہ ان حالات اور ان اختلافات کو کسی طرح قابو کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں