شہزاد اکبر کاجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سوالات کے جواب دینے سے ا نکار

اسلام آباد : معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سوالات کے جواب دینے سے ا نکار کر دیا۔ شہزاد اکبر نے موقف اختیار کیا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ملزم ہیں مجھے سے سوال نہیں کر سکتے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ کیسز کی سماعت ہوئی معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع ہر شہزاد اکبر نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ خود ایک ملزم ہیں ان کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔ ایک ملزم دوسرے سے سوال نہیں کرسکتا اور نہ ہی کٹھرے میں کھڑے ملزم کو جواب دیا جا تاہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس فائز قاضی فائز عیسیٰ نے مجھے سے سوالات کئے ہیں جن کے جواب نہیں دوں گا اگر عدالت نے ان الزامات پر مجھ سے پوچھا تو جواب دوں گا۔

ضرور پڑھیں   حکومتی پالیسیوں کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، وزیراعظم

یاد رہے وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اوراپنا استعفی وزیراعظم عمران خان کو بھیجوا دیا ہے جس کے بعد وہ جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس کیس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔ اس سے قبل بھی 2019 می آرمی چیف ایکسٹینشن کے معاملے پر بھی فروغ نسیم نے وزارت سے استعفی دے کر حکومت کی نمائندگی کی تھی، تا ہم وہ استعفی صرف دو دن کا تھا جس کے بعد انہوں نے اپنی وزارت کا قلمدان دوبارہ سنبھال لیا تھا۔

تا ہم اب دوبارہ فروغ نسیم نے استعفی دے دیا ہے جس کے بعد وہ جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس کیس میں وفاق کی نمائندگی کریں گے۔ اس حوالے سے مختلف رپورٹس میں یہی بتایا گیا ہے کہ فروغ نسیم کے مستعفی ہونے کی وجہ یہی ہے کہ وفاقی کی جانب سے جو صدارتی ریفرنس دائر کیا گیاتھا فروغ نسیم کو اس کیس کی نمائندگی کے لئے نامزد کیا گیا ہے۔