تحصیل ہارون آباد وفورٹ عباس میں نہروں کی بندش کے باعث پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ زرعی پانی کے بحران کے خطرات بھی منڈلانا شروع ہو گئےہارون آباد(ارشد علی نمائیندہ نوائےجنگ برطانیہ)

ہارون آباد(ارشد علی نمائیندہ نوائےجنگ برطانیہ)شہرو گردونواح میں زیر زمین پانی کڑوا جبکہ نہروں کی بندش سے زراعت اور پینے کے پانی کے بحران نے سر آٹھا لیا۔نئی فصلوں کی کاشت سمیت باغات شدید متاثر ہونے کاخدشہ تفصیلات کے مطابق پانی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں مگر پاک بھارت کی سر حد پر واقع تحصیل ہارون آباد وفورٹ عباس میں نہروں کی بندش کے باعث پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ زرعی پانی کے بحران کے خطرات بھی منڈلانا شروع ہو گئے پیں۔ہارون آباد سے ملحقہ وسیع وعریض چولستان میں بھی گزشتہ پانچ سالوں سے بارشیں نہ ہونے کے باعث ویرانی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جانوروں کے پینے کے پانی کے ٹوبہ جات خشک ہو چکے ہیں جبکہ ہارون آباد و گردونواح میں زیر زمین پانی کڑوا ہونے کے باعث ناقابل استعمال اور پینے کے قابل بھی نہ ہے اوپر سے ستم ظریفی یہ ہے کہ نہروں کو بھی سالانہ وارہ بندی کے نام پر بند کر دیا گیا ہیں۔اگر نہروں کی بندش طول پکڑ گئی تو آنے والے دنوں میں نہ صرف فصلوں بلکہ پینے کے پانی کا بھی شدید بحران شہر ی علاقوں سمیت دیہاتوں کو بھی متا ثر کر سکتا ہیں اور علاقہ میں گندم کی فصل تباہ ہونے سے قحط سالی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے زیر زمین پا نی کڑوا ہے جسکی وجہ سے وہ فصلوں کو فائدے کی بجا ئے نقصان دیتا ہے نہروں کی طویل بندش سے گندم کی فصل سمیت دیگر فصلیں برباد ہو رہی ہیں جانوروں کے چارے کی قلت سمیت پینے کے پانی کی بھی شدید کمی واقع ہو چکی ہارون آباد کے علاقہ میں نہری پانی کی کمی کی وجہ سے جانوروں کے چارے کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ جانوروں کے پینے کے پانی کے ٹوبہ جات بھی خشک ہو رہے ہیں ہارون آباد جیسا زرخیز علاقہ نہری پانی کی کمی کے باعث بنجر ہوتا جا رہا ہے یہاں پر ضرورت اس امر کی ہے کہ تبدیلی سرکار ہنگامی بنیادوں پر نہری پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے حکمت عملی اپناتے ہو ئے اس علاقہ کو نہری پانی کی فراہمی ممکن بنا ئے تاکہ یہ علاقہ بنجر ہونے سے بچ سکے۔