وزیراعلی پنجا ب کی اوپن ڈور پالیسی فرضی کھلی کچہری فلاپ ڈرامہ ثابت عوام انصاف کے لیے خوار** *رفیق ساجد بیورو چیف نوائے جنگ برطانیہ

*وزیراعلی پنجا ب کی اوپن ڈور پالیسی فرضی کھلی کچہری فلاپ ڈرامہ ثابت عوام انصاف کے لیے خوار**
*رفیق ساجد بیورو چیف نوائے جنگ برطانیہ
حکومت کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت آر پی او شیخوپورہ ، کمشنر لاہور ڈویژن اور سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کمیونٹی سنٹر میں کھلی کچہری لگائی۔ سائلین نے ریوینو، قبضہ مافیا اور ناجائز تجاوزات اور قصور پولیس کے خلاف شکایات کے انبار لگا دئیے۔ پچاس کے قریب درخواستوں میں سے صرف چند ایک پر احکامات جاری ہوسکے۔ کھلی کچہری بدنظمی کا شکار رہی۔ ڈی آئی جی، کمشنر اور دیگر افسران عوام اور میڈیا سے گفتگو کیے بغیر ہی کھلی کچہری سے اٹھ کر چلے گئے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت آر پی او شیخوپورہ عبدالقادر قیوم، کمشنرلاہور ڈویژن مجتبیٰ پراچہ اور سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو طارق نجیب نجمی کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کرنے کے لئے کھلی کچہری کا اہتمام کیا گیا۔ کھلی کچہری کمیونٹی سنٹر چونیاں میں لگائی گئی۔ جس میں سائلین کی مخصوص تعداد نے شرکت کی۔ سائلین نے اپنے اپنے مسائل سے ان کو آگاہ کیا۔ پچاس کے قریب درخواستوں میں سے صرف چند ایک پر ہی موقع پر احکامات جاری ہوئے۔ اکثرسائلین کی آواز اعلیٰ افسران تک پہنچنے ہی نہ دی اور مائیک بند کروادیا جاتا تھا۔افسران کی آمد سے قبل قصورپولیس کے کچھ اہلکار پولیس کے خلاف آنے والے درخواست گزاروں یہ کہہ کر واپس بھیج دیتے کہ کھلی کچہری موخرہوگئی ہے اور ان کو واپس بھیج دیا جاتا رہا۔ شہریوں نے ریونیو، قبضہ مافیا، ناجائز گاڑیوں کے اسٹینڈز اور قصور پولیس کے خلاف شکایات بھی لگائیں۔ سرکل چونیاں میں چوری ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے متعلق بھی ڈی آئی جی کو آگاہ کیاگیا۔ڈی آئی جی اور دیگر بالا افسران نے عوام کو کسی قسم کی کوئی تسلی نہ دی اور اکثر درخواست گزاروں کی بات سنے بغیر ہی کھلی کچہری سے اٹھ کر چلے گئے۔ عوامی سماجی حلقوں کے راہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے کھلی کچہری کے متعلق کسی کو آگاہ نہیں کیا گیا بلکہ نام نہاد کھلی کچہری لگائی گئی انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ چونیاں میں کھلی کچہری کا دوبارہ انعقاد کروایا جائے اور عوام الناس کو قبل از وقت اطلاع دی جائے تاکہ ریونیو، قبضہ مافیا ، پولیس کے متعلقہ افسران کی لوٹ مار سامنے آسکے****

اپنا تبصرہ بھیجیں