علی رضا عابدی کے قتل کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما علی رضا عابدی کے قتل کا مقدمہ تھانہ گزری میں درج کردیا گیا ہے۔

گزشتہ رات ایم کیوایم پاکستان کے سابق رہنما علی رضاعابدی کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا، مرحوم کے والد کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف کراچی تھانہ گزری میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ایف آئی آر میں قتل کی دفعہ اور انسدادِ دہشت گردی کی ایکٹ شامل کی گئی ہیں، مقتول کے والد اخلاق عابدی نے بیان دیا ہے کہ علی رضا وقت سے پہلے گھر آگئے تھے انہوں نے بچوں کو کھانے کے لئے باہر لے جانا تھا، اور وہ جیسے ہی گھر کے دروازے تک پہنچے تو فائرنگ ہوگئی، فائرنگ کی آواز سن کو باہر بھاگا تو میں نے ملزمان کو اپنی آنکھوں سے بھاگتے ہوئے دیکھا۔

اخلاق عابدی نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے افراد کی عمریں 22 سے 24 سال کے درمیان تھیں، گھر کے گارڈ نے ملزمان کو روکنے کے لئے رائفل لوڈ کی تاہم رائفل نہیں چلی اور وہ دوسری رائفل لینے کے لئے اندر بھاگا، لیکن اس وقت تک قاتل بھاگ چکے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ علی رضا کو فوری طورپراسپتال لے جایا گیا تاہم گردن میں لگی گولی کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہوسکے، اگر گھر کا دروازہ جلدی کھل جاتا توعلی رضا بچ سکتےتھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں