2018 میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے

لاہور: پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں سال بھی تعلقات میں گرمجوشی نہ آسکی اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے۔

پاکستان کی طرف سے خیرسگالی کے طورپر کرتارپورکوریڈورکھولنے سمیت 514 بھارتی شہریوں کو رہا کیا گیا لیکن دوسری طرف بھارت روایتی ہٹ دھرمی اوربربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول اورورکنگ باؤنڈری پرمعصوم اوربے گناہ شہریوں پرگولیاں برساتارہا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہیداورسینکڑوں زخمی ہوئے جبکہ گھروں اورجانوروں کوبھی نقصان پہنچایا گیا۔

پاکستان نے 2018 میں ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے، پاکستان کی طرف سے 514 بھارتی شہریوں کو رہا کیا گیا جن میں 508 ماہی گیر اور6 سویلین شامل تھے جبکہ بھارت نے صرف 81 پاکستانی شہریوں کو رہا کیا جن میں 60 ماہی گیر اور21 سویلین شامل تھے۔ پاکستان نے نومبرمیں کرتارپورکوریڈورکھولنے کے لئے عملی اقدامات کا آغازکیا اوراس منصوبے کا سنگ بنیادرکھا گیا لیکن دوسری طرف بھارت نے ممبئی میں واقع جناح ہاؤس ،جوبانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکزرہا ، وہ بھارتی حکومت نے ہتھیا لیا ہے اوراب وہاں تبدیلیاں کرکے سرکاری تقریبات کے انعقادکا فیصلہ کیا ہے حالانکہ پاکستان متعددباریہ واضع کرچکا ہے کہ جناح ہاؤس پاکستان کا ہے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیاجاتارہا ہے کہ وہ جناح ہاؤس پاکستان کوفروخت کردے یا پھراسے لیزپردے تاکہ یہاں قونصل خانہ بنایا جاسکے۔

دوسری طرف بھارتی فورسزکی طرف سے 2018 میں سب سے زیادہ مرتبہ فائربندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئیں، دفترخارجہ اورآئی ایس پی آرکے اعدادوشمارکے مطابق دسمبرکے وسط تک بھارت کی طرف سے 2312 مرتبہ سے زائد بارلائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پربلااشتعال فائرنگ کی گئی اوربارڈرکے قریب بسنے والے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا جس کے نتیجے میں 55 شہری شہیدجبکہ 300 زخمی ہوئے، پاکستانی فورسزکی طرف سے بھی بھارت کو بلااشتعال فائرنگ کا منہ توڑجواب دیا گیا جس کے نتیجے میں بھارتی فورسزکوبھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

بھارت کی طرف سے کشمیرمیں بھی نہتے کشمیریوں پرظلم وستم کا سلسلہ جاری رہا ،مقبوضہ کشمیرکے متعددعلاقوں میں نہتے کشمیریوں پرفائرنگ اورتشددکے واقعات رونما ہوئے ، 22 دسمبرکو پلوامہ میں بھارتی فورسزنے 6 کشمیری نوجوانوں کوشہیدکیا۔