امریکی جنگ میں بہت نقصان اٹھاچکے اب وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کے ایک بار پھر پاکستان مخالف بیان پر مزید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، ہم امریکی جنگ میں بہت نقصان اٹھا چکے اب وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ چل پڑا ہے، ٹرمپ نے اتوار کو پاکستان پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ پاکستان نے ہماری امداد کے جواب میں آج تک کچھ نہ دیا جس پر وزیر اعظم عمران خان نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا ہمیں الزام دینے کے بجائے اپنی ناکامیوں پر غور کرے۔

پیر کی رات ٹرمپ نے ٹویٹ پر ایک اور بیان داغ دیا اور کہا کہ اب ہم پاکستان کو امداد نہیں دیں گے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، ہم نے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا خمیازہ جانوں کے ضیاع اور معاشی عدم استحکام کی شکل میں بھگتا ہے، ٹرمپ کو تاریخی حقائق سے آگاہی درکار ہے، ہم امریکی جنگ میں پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں لیکن اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہوگا۔

قبل ازیں کیے گئے ٹوئٹس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے افغانستان میں اپنی ناکامیوں پر غور کرے کہ کیوں ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو اہلکار، ڈھائی لاکھ افغان فوج کے باوجود امریکا جنگ نہ جیتا، ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود طالبان آج پہلے سے زیادہ توانا کیوں ہیں؟
عمران خان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر تاریخ درست کرنے کی ضرورت ہے، نائن الیون میں کسی پاکستانی کے شامل نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں 75 ہزار جانیں اور 123 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا، ہمارے قبائلی علاقے تباہ اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور اس کے بدلے امریکا نے صرف 20 ارب ڈالرز امداد دی۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی جنگ کا حصہ بنا اور اس جنگ نےعام پاکستانیوں کی زندگیوں میں تباہ کن اثرات مرتب کیے پاکستان نے پھر بھی امریکا کو مفت زمینی اور فضائی سہولت مہیا کی، کیا مسٹر ٹرمپ کسی ایسے اتحادی کا نام بتاسکتے ہیں جس نے یہ قربانیاں دی ہوں۔