کنٹرول لائن پر بھارتی خلاف ورزیاں بڑی جنگ کی وجہ بن سکتی ہے، وزیرخارجہ

اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کریں گے اور آج بھی چاہتے ہیں کہ معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ حل ہوں تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج ہر طرح کی صلاحیت رکھتی ہے۔

وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کشمیر میں بھارتی مظالم میں اضافے پرردعمل کا ظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں دو روز سے نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور گھر جلائے گئے جب کہ پچھلے دو سال کے دوران کشمیرمیں 524 افراد کو شہید اور9 ہزار سے زائد کو زخمی کیا گیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں جو کیا اس کی مثال نہیں ملتی، بھارتی تشدد اور تسلط کی وجہ سے وادی میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے اور برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کا جذبہ حریت کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے جب کہ ہمیں کشمیریوں کا بہتاخون برداشت نہیں، کشمیریوں کی پاکستان کے ساتھ محبت اور لگن بہت بڑھ چکی ہے جب کہ 6 اپریل کو یوم یکہتی کشمیر منایا جائے گا۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت ایل اوسی پربھاری ہتھیاراستعمال کررہا ہے اور گزشتہ سال 2 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کیں جب کہ کنٹرول لائن پر بھارتی خلاف ورزیاں بڑی جنگ کی وجہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات خراب سے خراب تر ہو رہے ہیں، کابینہ اجلاس میں بھارتی دہشت گردی کے خلاف قرارداد پاس کی گئی ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے کو اٹھانے کے لیے عالمی برادری سے مذاکرات کریں گے، بھارتی خلاف ورزیوں کا مسئلہ یواین او میں بھی اٹھارہے ہیں اور سیکریٹری جنرل او آئی سی سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے جب کہ تمام ممالک سے درخواست کر رہے ہیں کہ معاملے کے حل کے لئے پاکستان کی مدد کریں اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا خون صرف کشمیر میں نہیں میانمار اور فلسطین میں بھی بہایا جا رہا ہے اور ہمیں امید ہے کہ مسلم ملک اس معاملے پر ہمارے ساتھ ہیں۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے تعلقات اگر دیگر ممالک سے اچھے ہیں تو ہمارے بھی کم نہیں، یورپی یونین کے ساتھ ہمارا اچھا رشتہ ہے اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں کچھ ابہام ہے مگر بہتری آرہی ہے جب کہ ماضی میں جو پاکستان کے ساتھ ہوا اب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی ماحول میں تناؤ ہر ملک میں ہوتا ہے تاہم پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں اس معاملے میں ایک پیج پر ہیں اور پاکستان تمام تعلقات کو اپنے مفاد کے پیش نظر دیکھے گا۔