حکومت نے ایک لاکھ سرکاری ملازمین فارغ کرنے کا پلان تیار کرلیا، طریقہ کار کیا ہوگا؟ جان کر ہوش اڑجائیں

لاہور : ‏تمام سرکاری ملازمین کے لیے قبل از وقت ریٹائرمنٹ پالیسی کا اجراء کردیا گیا۔ سول سروس (لازمی ریٹائرمنٹ سروس) رول 2020 کا نفاذ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں میں ملازمین کو تین کٹیگریز کے تحت قبل از وقت ریٹائرمنٹ ملازمتوں سے فارغ کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں سرکاری اداروں میں پہلے مرحلے میں اضافی، غیر ضروری ، مبینہ کرپشن، اختیارات سے تجاوز سمیت اچھی کارکردگی نہ دکھانے والے ملازمین اور افسران کو ملازمتوں سے جبری طور پر ریٹائرڈ کرنے کے لیے پلان تیار کیا گیا ہے اور حکومت نے اس پلان کو حتمی شکل دے کر رواں سال سے باقاعدہ عمل درآمد کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ضرور پڑھیں   ماتحت عدالتوں پر افسوس ہوتا ہے، چیف جسٹس

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے سرکاری سروس رولز 2020 کے تحت سرکاری اداروں میں بڑے پیمانے پر ملازمین اور افسران کو جبری طور پر ریٹائرڈ کرکے گھروں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں لازمی /جبری ریٹائرمنٹ کے لئے گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک کے ملازمین اور افسران کے لیے دو الگ الگ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ 17 تک اور گریڈ 17 سے گریڈ 20اور پھر گریڈ 20 سے گریڈ 22 تک کے ملازمین کو 58 سال کی عمر میں نوکریوں سے فارغ کیا جانے کا پلان تیار کیا گیا ہے۔

ضرور پڑھیں   شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا

۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں وفاقی اداروں محکمہ ریلوے، سوئی گیس، واپڈا، پی آئی اے سمیت متعدد محکموں کی فہرست تیار کرنے کےلئے کمیٹی نمر وں کو دو ماہ کا ٹارگٹ دیا گیا ہے۔جس میں ملازمین اور افسران پر ناقص کارکردگی۔مبینہ کرپشن۔اختیارات سے تجاوز سمیت نااہلی کے الزامات عائد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس طرح بڑے پیمانے پر ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر ایسا پلان نافذ کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں ظاہر کیا جائے گا کہ حکومت کے اس پلان سے اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور وہاں ملازمین اور افسران کی کارکردگی کی بھی مانیٹرنگ کے نظام میں آسانی ہو گی اور مبینہ کرپشن اختیارات سے تجاوز سمیت نااہلی کی شکایات ختم ہو کر رہ جائیں گئی۔

ضرور پڑھیں   پاک چین راہداری شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، وزیراعظم

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس پلان سے پہلے مرحلے میں وفاقی اداروں سے ایک لاکھ ملازمین اور افسران کی چھٹی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں پہلے مرحلے میں 58سال کی عمر والے ملازمین اور افسران جبکہ دوسرے مرحلے میں کٹریکٹ و ڈیلی ویجز ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا جانے کا پلان ترتیب دیا گیا ہے۔