بھارت کے تمام سکیورٹی سی سی ٹی وی کیمرے چینی فوج کے کنٹرول میں آ گئے

لاہور : سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے تمام سکیورٹی سی سی ٹی وی کیمرے چینی فوج کے کنٹرول میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ مودی ایک سال پہلے سو رہے تھے جب چین نے بھارت کے اندر آکر کیمرے لگانا شروع کیے۔چین بھارت کی چالیس سے 45 فیصد مارکیٹ چین لے گئے۔اور اس حوالے سے بھاری سرمایہ کاری کی۔

بھارت کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہترین سیکیورٹی کا سسٹم موجود ہے۔اور ہماری بال بال پر نظر رہے گی۔جس کے بعد امریکہ نے کہا کہ کیمروں کے حوالے سے یہ تو چینی ملٹری کا پراجیکٹ تھا۔جب سے یہ کیمرے لگے ہیں تب سے بھارت کا سارے کا سارا ڈیٹا چین کے پاس چلا گیا ہے۔

۔دوسری جانب بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ضرور پڑھیں   حکومت کا سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کرنے کا سسٹم لانے پر غور

سینئر صحافی چوہدری غلام حسین نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چین اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ سرحدی جھڑپوں میں چینی فوج کا بھی جانی نقصان ہوا۔ چوہدری غلام حسین کا دعویٰ کہ حالیہ جھڑپوں کیے دوران جہاں بھارت کے 20 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے، وہیں چین کے 4 فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ سرحد پر ہونے والی یہ جھڑپ بھارت کی وجہ سے ہوئی۔

بھارت کی جارحیت کی وجہ سے چین نے بھی جارح جواب دیا۔جب کہ بھارت نے پاکستان کیخلاف بھی شور مچانا شروع کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ چین اور پاکستان مل کر بھارت میں کاروائی کر سکتے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج لداخ میں موجود ہے۔بھارتی میڈیا واویلا کر رہا ہے کہ پاکستان نے گلگت بلتستان کے علاقے میں فوجی دستے منتقل کرنا شروع کردیئے ہیں۔

ضرور پڑھیں   موبائل صارفین سے ٹیکس کی مد میں 13 کھرب روپے سے زائد وصول کرنے کا انکشاف

پاکستان نے 20،000 اضافی فوجیوں کو شمالی لداخ میں تعینات کیا ہے۔ واضح رہے کچھ روز قبل لداخ کے علاقے میں ہونے والی جھڑپ کے دوران چینی فوج نے 20 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر ڈالا تھا۔ جبکہ چین نے وادی گولوان کو بھی اپنا علاقہ قرار دے دیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوج بھارت کے کچھ علاقے پر قبضہ کر چکی ہے۔ اس تمام صورتحال میں بھارت کی حکومت اس وقت بری طرح بوکھلائی ہوئی ہے۔ آخری اطلاعات تک چینی فوج نے لداخ کے علاقے میں مزید پیش قدمی کی ہے۔