کم عمری میں سزائے موت پانے والا قیدی 21 سال بعد رہا ہو گیا

کراچی : کم عمری میں سزائے موت پانے والا قیدی 21 سال بعد رہا ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی جانب سے یہ کہتے ہوئے ملزم کو رہا کر دیا گیا ہے کہ محمد اقبال نے جرم کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جب وہ قانونی لحاظ سے نابالغ یعنی 18 سال سے کم عمر تھے۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان ایک غیر منافع بخش، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی لا فرم ہے جو مفت قانونی مشورے، سخت سزاؤں کا سامنا کرنے والے غریب و کمزور قیدیوں کو نمائندگی اور تحقیقاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔

جسٹس پروجیکٹ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے 2000 میں ایک ایکٹ مںظور کیا تھا جس کے مطابق نابالغوں کو سزائے موت دینا غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں   جعلی اکاؤنٹس کیس میں پہلا نیب ریفرنس سماعت کیلیے مقرر

تا ہم جسٹس روجیکٹ پاکستان کی کاوشوں کے بعد محمد اقبال کو رہا کردیا گیا ہے۔ وکالت کرنے والے ادارے کے حکام کی جانبس سے بتایا گیا ہے کہ 2 دہائی بعد بالآخر لاہور ہائی کورٹ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اقبال پر ظلم کیا گیا اور وہ سزائے موت کے انتظار کرنے کے مستحق نہیں تھے اور اب انہیں 30 جون کو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ اپنے گھر پر موجود ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں لوگوں کو انصاف کے لئے سالوں انتظار کرنا پڑا ہے۔ تاہم اس کیس میں محمد اقبال کو انصاف مل گیا ہے اور اب 21 سال بعد وہ اپنے گھر والوں کو ملیں ہیں۔