فحاشی پھیلانے پرمعروف خاتون ٹک ٹاکر کو 3سال قید کی سزاسنادی گئی

قاہرہ : دنیا بھرمیں سماجی روابط کی ویب سائٹس اور ویڈیو شیئرنگ ایپس نئی نسل اور شہرت کے دلدادہ افراد کی من پسند مصروفیت بن چکی ہے مگر کئی لوگوں پر اس کے استعمال کی زیادتی کے الزامات بھی عائد ہوتے رہتے ہیں۔

ٹک ٹاک پر بنائی جانے والی چند ویڈیوز پر یہ الزام بھی عائد کیاجاتا ہے کہ ان میں سماجی اخلاقیات کا خیال نہیں رکھاجاتا اور فحاشی و عریانی پھیلائی جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک الزام مصر کی ایک ہائی پروفائل بیلے ڈانسر سیما المصری پر لگایا گیا جس کے بعد انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ضرور پڑھیں   فوربز نے 2018 کی امیر ترین شخصیات کی فہرست جاری کردی

تفصیلات کے مطابق مصر میں عدالت نے ایک بیلے ڈانسر کو ٹک ٹاک پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں فحاشی پھیلانے کے جرم میں تین سال قید اور 15ہزار پاونڈز جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔

برطانوی اخبار مرر کے مطابق خاتون ٹک ٹاکر کا موقف ہے کہ ان کی ویڈیوز اور تصاویر کو چرا کر لیک کیاگیاہے اور ان کاایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تاہم عدالت نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے بیالیس سالہ خاتون ٹک ٹاکر کوسزاسنادی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ المصری نے خاندانی ضوابط کو توڑا اور غیر اخلاقی اقدام کیا۔

ضرور پڑھیں   دادی کی آخری رسومات میں کرینہ کو ہنسنا مہنگا پڑگیا

مصری رکن پارلیمنٹ جان طلعت نے ریمارکس دیے کہ آزادی اور عریانی میں بہت بڑا فرق ہے۔ ایسی خواتین ٹک ٹاکرز کے خلاف مزید کارروائی ہونی چاہیے۔