وزیراعظم کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب زیراعظم عمران خان نے حکومتی رہنماؤں اور اتحادی ارکانِ پارلیمنٹ کو عشائیے پر مدعو کیا تھا۔جس میں وفاقی وزرا ،مشیران اور معاون خصوصی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر اراکین اسمبلی شریک ہوئے تھے۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم تقریب میں ایک ایک ٹیبل پر گئے اور ہر کسی کی شکایت سنیں۔

وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔وزیراعظم ہاؤس میں دیے گئے عشائیہ میں چہ میگوئیاں ہوتی رہی کہ عمر ایوب، ندیم بابر اور عبدالحفیظ کو عوامی غضب سے بچ کر رہنا چاہیے۔بعض اراکین وزیراعظم سے موجودہ خراب معاشی حالات اور عوامی ردعمل سے متعلق بات کرنا چاہتے تھے لیکن وہ وزیراعظم تک اپنی بات نہ پہنچا سکے۔

ضرور پڑھیں   حکومت نے پیٹرول کے بعد بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا

بعض پارٹی ارکان ناخوش اور باہمی گفتگو میں شکوہ کرتے نظر آئے جن میں عامرلیاقت ،نجیب ہارون اور قاسم نون شامل تھے۔بعض ارکان نے وزیراعظم عمران خان تک شکایات پہنچائی کہ 18 ایم این ایز وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے رویے سے پریشان ہیں کیونکہ وہ ایم این ایز کی بجائے ایم پی ایز کو ترجیح دیتے ہیں۔راجہ ریاض اور نورعالم عشائیے میں نظر نہیں آئے جب کہ شیخ رشید نے بھی بیماری کی وجہ سے عشائیے میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

عشائیے میں وزیراعظم نے ارکان اسمبلی کے تحفظات اور مسائل سنے۔ وزیراعظم نے تمام حکومتی و اتحادی اراکین کو بجٹ سے متعلق بریفنگ دی۔ معاشی اہداف اورمشکلات پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ منظوری کیلئے تمام اراکین اسمبلی کل ایوان میں موجود ہوں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے بجٹ منظوری کیلئے گائیڈ لائنز دیں اورعشائیہ کے شرکاء سے خطاب میں کہا کہ اتحادیوں کو ساتھ لے کرچلوں گا،بجٹ منظوری کے بعد اتحادیوں کے معاہدوں پر عملدرآمد ہوگا، وزیراعظم نے کہا کہ پیپلزپارٹی اپنے نظریے سے ہٹ کر تباہ ہوگئی۔

ضرور پڑھیں   وزیراعظم کی انا کے باعث قومی اسمبلی میں لفظ ’سلیکٹڈ‘ پر پابندی لگائی گئی، بلاول

لیکن ہم اپنے نظریے پر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ہم اس وقت نیچے گریں گے جب اپنے نظریے سے ہٹ جائیں گے۔ میں اپنے نظریے پر قائم ہوں مشکلات آتی رہتی ہیں۔ لوگ کبھی خوش ہوں گے کبھی ناراض ہوں گے، ہم نے لوگوں کی حالت بدلنی ہے۔ آج ان لوگوں سے سمجھوتہ کرلوں اور کیسز ختم کردوں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور میں بھی پانچ سال بڑی آسانی کے ساتھ پورے کرسکتا ہوں۔