پانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

کراچی : وزارت خزانہ کی ہدایت پراسٹیٹ بینک نےپانچ ہزار روپے کا کرنسی نوٹ ختم کرنے پرکام شروع کردیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے 5 ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس کیلئے اسٹیٹ بینک نے پالیسی بنانا بھی شروع کردی ہے۔ جب پانچ ہزار کا نوٹ بند کرنے کا اعلان کیا جائے گا توکاروباری طبقات اور لوگوں کوموقع دیا جائے گا کہ وہ اس سے قبل اس کرنسی کوتبدیل کروا لیں یا پھر بینکوں میں جمع کروا دیں۔

بنکوں میں کرنسی نوٹ تبدیل کرانے والوں کا ریکارڈ بمعہ شناختی کارڈ نمبر مرتب کیا جائے گا۔ ایسے افراد بارے یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ وہ فائلر ہیں یا نان فائلر؟ بڑی رقم تبدیل کرانے والوں سے ان کے گوشواروں بارے بھی معلوم کیا جائے گا۔

واضح رہے اسی طرح سوشل میڈیا پر نئے کرنسی نوٹوں کی کئی تصاویر زیر گردش ہیں جن سے متعلق یہ کہا جارہا تھا کہ حکومت نے کرنسی نوٹ تبدیل کر کے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ضرور پڑھیں   آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

تاہم اب اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے بھی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی تردید کر دی ہے جبکہ قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر بھی ان افواہوں کی تردید کر چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سوشل میڈیا میں نئے ڈیزائن والے مختلف مالیتوں کے کرنسی نوٹ جاری کرنے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ان تمام افواہوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک مستقبل قریب میں نئے ڈیزائن کے حامل بینک نوٹ جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ایس بی پی ایکٹ 1965ء کے مطابق کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن ، شکل اور میٹریل کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل وفاقی حکومت کو اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سفارش درکار ہوتی ہے۔

اسٹیٹ بینک بورڈ نے اس ضمن میں وفاقی حکومت یا کابینہ کو کوئی بھی سفارش نہیں دی ہے۔ مرکزی بینک نے عوام سے درخواست ہے کہ وہ اس قسم کی افواہوں پر توجہ نہ دیں، اس کا مقصد عوام میں غیر ضروری طور پر سنسنی اور بے چینی پھیلانا ہے۔ جبکہ دو روز قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر سے صحافی نے نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق سوال کیا جس پر اسد عمر نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق جو خبر چل رہی ہے وہ میرے علم میں نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں   جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر، سنگین الزام عائد

کرنسی نوٹوں کی تبدیلی سے متعلق ایسی کوئی خبر مجھ تک نہیں پہنچی ،یہ جو میں واٹس ایپ گروپوں اور سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ جعلی نوٹ جس رنگ میں بھی ملیں اچھے لگتے ہیں۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے کرنسی نوٹوں کی کچھ تصاویر گردش کر رہی ہیں، ان نوٹوں میں پاکستانی ثقافت کو پروموٹ کیا گیا ہے لیکن ان کرنسی نوٹوں کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ان پر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر کہیں موجود نہیں ہے۔

ضرور پڑھیں   سپریم کورٹ کا سانحہ اے پی ایس پر تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کا حکم

ان کرنسی نوٹوں سے متعلق کہا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پُرانے کرنسی نوٹوں کو تبدیل کر کے یہ کرنسی نوٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی کرنسی نوٹوں کی ان تصاویر کو دیکھ انٹرنیٹ صارفین نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کے کرنسی نوٹوں سے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ چونکہ قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کے بانی ہیں لہٰذا کرنسی نوٹوں پر ان کی ہی تصویر ہونی چاہئیے۔ تاہم وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے بعد اب اسٹیٹ بنک نے بھی نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا کی تمام افواہوں کی تردید کر دی ہے۔