کینیڈا ، نسل پرستی کیخلاف ریلی میں وزیراعظم ٹروڈو کی اچانک انٹری

کینیڈا : کینیڈا میں نسل پرستی کے خلاف ریلی نکالی گئی جس میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی شرکت کی۔نسل پرستی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے تین موقعوں پر گھٹنے ٹیک کر شرکاء کو خراج تحسین پیش کیا۔نسل پرستی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جس میں وزیر اعظم جسٹن ٹروڈون نے سیاہ ماسک اور سفید شرٹ پہن رکھی تھی۔

انہوں نے ریلی سے خطاب نہیں کیا۔مظاہرے کے بعد جب شرکا امریکی سفارتخانے کی جانب بڑھے تو وزیراعظم جسٹن ٹروڈو واپس چلے گئے۔یہ مظاہرہ ایسے موقع پر کیا گیا جب مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔جس کے بعد مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں خاتون کی موت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا گیا تاہم اس مظاہرے میں جسٹن ٹروڈو نے شرکت نہیں کی۔

ضرور پڑھیں   بنگلا دیش میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی

امریکا میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں قتل سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی یاد میں ٹورنٹو سمیت کینیڈا کے مختلف شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔یہ مظاہرے ایسے موقع پر کیے گئے جب مشرقی کینیڈا میں پولیس کے ہاتھوں ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔قبل ازیں کنیڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کینیڈین شہری امریکہ میں ہونے والے اس واقعے کو خوف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جو کچھ چل رہا ہے کہ نے کینیڈین شہری اسے خوف کی علامت سمجھتے ہیں۔جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ لوگوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے اتنے سالوں سے آخر کیا ناانصافی ہوتی آرہی ہے جس کے خلاف لوگ آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں بھی نسل پرستی کے خلاف اٹھنے کا وقت ہے اور ہمیں کینیڈا میں بھی نسل پرستی کے تاثر کو ختم کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں