مجھے رحمان ملک نے 2011 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا

اسلام آباد : غیر ملکی صحافی سنتھیا رچی کے پیپلز پارٹی رہنماوں پر سنگین الزامات، ان کا کہنا ہے کہ مجھے رحمان ملک نے 2011 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، ایوان صدر میں یوسف رضا گیلانی نے دست درازی کی، مخدوم شہاب الدین نے بھی بدسلوکی کی۔ تفصیلات کے مطابق غیر ملکی صحافی سنتھیا رچی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پیغام میں پیپلز پارٹی کے رہنماوں پر جنسی زیادتی اور ہراسگی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں:

Gepostet von Cynthia Dawn Ritchie am Freitag, 5. Juni 2020

فیس بک پر جاری کی گئی ویڈیو اور ایک تفصیلی پیغام میں سنتھیا رچی نے الزام عائد کیا ہے کہ 2011 میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

ضرور پڑھیں   پنجاب اسمبلی میں ضمنی بجٹ پیش، اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی

یہ واقعہ منسٹر انکلیو میں رحمان ملک کی رہائش گاہ پر پیش آیا تھا۔ جبکہ ایوان صدر میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ان کیساتھ دست درازی کی تھی۔ سنتھیا کی جانب سے سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین پر بھی ان سے بدسلوکی کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ سنتھیا کا کہنا ہے کہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ ان دنوں میں پیش آیا جب اسامہ بن لادن آپریشن ہوا تھا۔

مجھے ملاقات کیلئے بلایا گیا تھا، میرا خیال تھا کہ یہ میرے ویزے سے متعلق ملاقات ہوگی، لیکن مجھے پھول دیے گئے اور میرے مشروب میں نشہ آور چیز ڈال دی گئی۔ بعد ازاں وہ خاموش رہیں اور اس حوالے سے انہوں نے امریکی سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا، لیکن کسی نہ ان کی نہ سنی۔ اس وقت امریکا اور پاکستان کے تعلقات کافی حساس نوعیت اختیار کیے ہوئے تھے، اس لیے ان کی شکایت پر کوئی ایکشن نہ لیا گیا گیا۔

ضرور پڑھیں   وزارت داخلہ نے حسن اورحسین نوازکے پاسپورٹ بلاک کردئیے

اب ان کے منگیتر نے انہیں ہمت دی کہ وہ یہ تمام معاملات سامنے لے کر آئیں۔ گزشتہ کچھ روز سے پیپلز پارٹی کے لوگوں کی جانب سے ان پر اور ان کے اہل خانہ پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، اسی لیے اب انہوں نے خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا۔ سنتھیا نے بلاول بھٹو زرداری سے کہا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو ان پر ذاتی حملے کرنے سے روکیں۔ جبکہ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر وہ کسی بھی قسم کی تحقیقات کیلئے پیش ہونے کیلئے راضی ہیں۔ فی الحال وہ کچھ وقت تنہائی میں گزارنا چاہتی ہیں۔ اگلے ہفتے سے اگر انہیں تحقیقات کیلئے کوئی طلب کرے، تو وہ حاضر ہونے کیلئے تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں